حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 155 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 155

حیات احمد ۱۵۵ جلد چهارم ہمیں تو جنڈیالہ کے مسلمانوں سے کام ہے نہ کسی اور سے۔آپ جانتے ہیں کہ جنڈیالہ میں کوئی مشہور اور نامی فاضل نہیں اور یہ آپ کے شان سے بھی بعید ہوگا کہ آپ عوام سے الجھتے پھر میں اور اس عاجز کا حال آپ پر مخفی نہیں کہ آپ صاحبوں کے مقابلہ کے لئے دس برس کا پیاسا ہے اور کئی ہزار خط اردو و انگریزی اسی پیاس کے جوش سے آپ جیسے معزز پادری صاحبان کی خدمت میں روانہ کر چکا ہوں اور پھر جب کچھ جواب نہ آیا تو آخر نا امید ہو کر بیٹھ گیا۔چنانچہ بطور نمونہ ان خطوں میں سے کچھ روانہ بھی کرتا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ آپ کی اس توجہ کا اول مستحق میں ہی ہوں۔اور سوائے اس کے اگر میں کا ذب ہوں تو ہر ایک سزا بھگتنے کے لئے طیار ہوں میں پورے دس سال سے میدان میں کھڑا ہوں۔جنڈیالہ میں میری دانست میں ایک بھی نہیں جو میدان کا سپاہی تصور کیا جاوے۔اس لئے بادب مکلف ہوں کہ اگر یہ امر مطلوب ہے کہ روز کے قصے طے ہو جا ئیں اور جس مذہب کے ساتھ خدا ہے اور جو لوگ سچے خدا پر ایمان لا رہے ہیں ان کے کچھ امتیازی انوار ظاہر ہوں تو اس سے مقابلہ کیا جائے آپ لوگوں کا یہ ایک بڑا دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام در حقیقت خدا تھے اور وہی خالق ارض وسما تھے اور ہمارا یہ بیان ہے کہ وہ بچے نبی ضرور تھے ، رسول تھے ، خدا تعالیٰ کے پیارے تھے مگر خدا نہیں تھے۔سو انہیں امور کے حقیقی فیصلہ کے لئے یہ مقابلہ ہوگا۔مجھ کو خدا تعالیٰ نے براہِ راست اطلاع دی ہے کہ جس تعلیم کو قرآن لایا ہے وہی سچائی کی راہ ہے۔اسی پاک تو حید کو ہر ایک نبی نے اپنی امت تک پہنچایا ہے۔مگر رفتہ رفتہ لوگ بگڑ گئے اور خدا تعالیٰ کی جگہ انسانوں کو دے دی۔غرض یہی امر ہے جس پر بحث ہوگی اور میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ وقت آگیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی غیرت اپنا کام دکھلائے گی اور میں امید رکھتا ہوں کہ اس مقابلہ سے ایک دنیا کے لئے مفید اور اثر انداز نتیجے نکلیں گے اور