حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 154
حیات احمد ۱۵۴ جلد چهارم سفارت احمد یہ بغرض تصفیه شرائط مباحثہ حضرت اقدس کو جب مسلمانانِ جنڈیالہ نے اپنا نمائندہ مقرر کر دیا اور ڈاکٹر کلارک کو حسب وعدہ مناظرہ کے لئے میدان میں آنا پڑا تو حضرت اقدس نے شرائط مباحثہ طے کرنے کے لئے ایک سفارت ڈاکٹر کلارک کے پاس بھیجی۔سلسلہ عالیہ احمد یہ میں یہ پہلی سفارت ہے۔چنانچہ اس سفارت کے بھیجنے کی اطلاع آپ نے ڈاکٹر کلارک کو بذریعہ ایک مکتوب کے دی جس کو یہ سفارت اپنے ساتھ لے گئی تھی اس میں تمام ضروری امور کی تفصیل درج ہے اور وہ یہ ہے۔مشفق مهربان پادری صاحب بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ بعد ما وجب یہ وقت کیا مبارک وقت ہے کہ میں آپ کے اس مقدس جنگ کے لئے طیار ہوکر جس کا آپ نے اپنے خط میں ذکر فرمایا ہے اپنے چند عزیز دوست بطور سفیر منتخب کر کے آپ کی خدمت میں روانہ کرتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ اس پاک جنگ کے لئے آپ مجھے مقابلہ پر منظور فرماویں گے۔جب آپ کا پہلا خط جو جنڈیالہ کے بعض مسلمانوں کے نام تھا مجھ کو ملا اور میں نے یہ عبارتیں پڑھیں کہ کوئی ہے کہ ہمارا مقابلہ کرے تو میری روح اسی وقت بول اٹھی کہ ہاں میں ہوں جس کے ہاتھ پر خدا تعالیٰ مسلمانوں کو فتح دے گا اور سچائی کو ظاہر کرے گا۔وہ حق جو مجھ کو ملا ہے اور وہ آفتاب جس نے ہم میں طلوع کیا ہے وہ اب پوشیدہ رہنا نہیں چاہتا۔میں دیکھتا ہوں کہ وہ اب زور دار شعاعوں کے ساتھ نکلے گا اور دلوں پر اپنا ہاتھ ڈالے گا اور اپنے طرف کھینچ لائے گا لیکن اس کے نکلنے کے لئے کوئی تقریب چاہیے تھی سو آپ صاحبوں کا مسلمانوں کو مقابلہ کے لئے بلانا نہایت مبارک اور نیک تقریب ہے مجھے امید نہیں کہ آپ اس بات پر ضد کریں کہ