حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 150 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 150

حیات احمد ۱۵۰ جلد چهارم عہد کریں اور نہ اس کے مقابل پر اسی برس کے اندر اسی کی مانند کوئی خارق عادت نشان دکھلا سکیں تو عہد شکنی کے تاوان میں نصف جائیداد اپنی امداد اسلام کے لئے اس کے حوالہ کریں گے۔اور اگر ہم دوسری شق پر بھی عمل نہ کریں اور عہد کو توڑ دیں اور اس عہد شکنی کے بعد کوئی قہری نشان ہماری نسبت مرزا غلام احمد شائع کرنا چاہے تو ہماری طرف سے مجاز ہوگا کہ عام طور پر اخباروں کے ذریعہ سے یا اپنے رسائل مطبوعہ میں اس کو شائع کرے فقط یہ تحریر آپ کی طرف سے بقید نام و مذہب و ولدیت وسکونت ہو اور فریقین کے پچاس پچاس معزز اور معتبر گواہوں کی شہادت اس پر ثبت ہو تب تین اخباروں میں اس کو آپ شائع کرا دیں۔جبکہ آپ کا منشاء اظہار حق ہے اور یہ معیار آپ کے اور ہمارے مذہب کے موافق ہے تو اب برائے خدا اس کے قبول کرنے میں توقف نہ کریں۔اب بہر حال وہ وقت آگیا ہے کہ خدا تعالیٰ بچے مذہب کے انوار و برکات ظاہر کرے اور دنیا کو ایک ہی مذہب پر کر دیوے سواگر آپ دل کو قومی کر کے سب سے پہلے اس راہ میں قدم ماریں اور پھر اپنے عہد کو بھی صدق اور جوانمردی کے ساتھ پورا کریں تو خدا تعالیٰ کے نزدیک صادق ٹھہریں گے اور آپ کی راستبازی کا یہ ہمیشہ کے لئے نشان رہے گا۔اور اگر آپ یہ فرماویں کہ ہم تو یہ سب باتیں کر گزریں گے اور کسی نشان کے دیکھنے کے بعد دین اسلام قبول کرلیں گے یا دوسری شرائط متذکرہ بالا بجالائیں گے اور یہ عہد پہلے ہی سے تین اخباروں میں چھپوا بھی دیں گے لیکن اگر تم ہی جھوٹے نکلے اور کوئی نشان دکھلا نہ سکے تو تمہیں کیا سزا ہوگی تو میں اس کے جواب میں حسب منشاء توریت سزائے موت اپنے لئے قبول کرتا ہوں اگر یہ خلاف قانون ہو تو کل جائیداد اپنی آپ کو دوں گا جس طرح چاہیں پہلے مجھ سے تسلی کرالیں۔قَوْلُہ۔لیکن یہ جناب کو یادر ہے کہ معجزہ ہم اسی کو جانیں گے جو ساتھ تحدی مدعی