حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 6
حیات احمد جلد چهارم کروں گا جو دشمن ہے۔مگر حضرت اقدس کے کارناموں کو صحیح رنگ میں پیش کرنا چاہتا ہے۔والٹر نامی ایک عیسائی قادیان میں آیا تھا۔وہ سلسلہ کے متعلق ایک کتاب لکھنا چاہتا تھا۔وہ مجھ سے بھی ملا اور میں نے اس وقت تک کا شائع کردہ لٹریچر اس کے نذر کر دیا۔اس نے جو کتاب لکھی اس میں میری تالیفات کا ذکر کیا۔افسوس یہ ہے کہ بعض لوگ میری صاف گوئی کو غلط نقطہء خیال سے دیکھتے ہیں۔یہ ذکر ضمناً آگیا کہ واقعات کے سلسلہ میں ایک دکھ کی بات آجاتی ہے۔میرا مقصد صرف اسی قدر ہے کہ تعاون کیا جاوے۔۔اس جلد کا آغا ز ۱۸۹۳ء سے ہوتا ہے اور یہ سال میری زندگی میں بھی ایک انقلابی سال ہے ۱۸۹۳ء میری نئی زندگی کے آغاز کا سال ہے۔اس لئے کہ میں نے فروری ۱۸۹۳ء میں تجدید بیعت کی اور سلسلہ کی اشاعت اور میری تبلیغی سرگرمیاں پوشیدہ نہ تھیں وہ زمانہ طالب علمی تھا۔مگر ۱۸۹۳ء کے آغاز کے ساتھ میں تعلیمی دور ختم کر چکا۔اور اس کا باعث یہی جنون تھا۔میرے سامنے دو تجویزیں تھیں۔دیو بند جا کر علوم عربیہ کی تحصیل و تکمیل۔علی گڑھ کالج جا کر گریجوئیٹ بنا۔اور سرکاری ملازمت کا حصول۔مگر مشیت ایزدی کچھ اور تھی یہ تمام تجویزیں متروک ہو گئیں اور میں حافظ محمد یوسف ضلعدار نہر اور خان بہادر سید فتح علی شاہ صاحب ڈپٹی کلکٹر ( جو اُن دنوں سلسلہ کے معاونین میں تھے ) کی تحریک پر حافظ صاحب کے ساتھ چلا گیا اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم ہی کا کرشمہ ہے کہ ان ایام میں جہاں جہاں مجھے جانا پڑا اور تقریریں کرنے اور بعض چھوٹے چھوٹے مباحثات کرنے پڑے آج وہاں احمدی جماعتیں قائم ہیں۔قصور کی جماعت تو بہت بڑی جماعت ہے۔اس کے ابتدائی رکنوں میں حضرت مرزا فضل بیگ رضی اللہ عنہ سَابِقُونَ الْأَوَّلُون میں سے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ڈاکٹر بوریخان رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔مکرم مولوی عبد القادر قصوری بھی ابتداء سلسلہ کے ساتھ ارادت رکھتے تھے مگر وہ شریک جماعت نہ ہو سکے اور وہ سیاسی مشاغل میں مصروف ہو گئے۔ایسا ہی للیانی میں جانے کا اکثر اتفاق ہوتا تھا۔وہاں بھی جماعت ہے اور حضرت