حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 149 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 149

حیات احمد ۱۴۹ جلد چهارم اقول۔بے شک یہ آپ کا مقولہ انصاف پر مبنی ہے اور کسی کے منہ سے یہ کامل طور پر نکل نہیں سکتا جب تک اس کو انصاف کا خیال نہ ہو لیکن اس جگہ یہ آپ کا فقرہ کہ جس قدر اصلاح اپنی غلطی کی ہم آپ کے معجزہ سے کر سکتے ہیں اس کو اپنا فرض عین سمجھیں گے تشریح طلب ہے۔یہ عاجز تو محض اس غرض کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا یہ پیغام خلق اللہ کو پہنچا وے کہ دنیا کے تمام مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب حق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآن کریم لایا ہے اور دارالنجات میں داخل ہونے کے لئے دروازہ لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ ہے وبس۔اب کیا آپ اس بات پر طیار اور مستعد ہیں کہ نشان دیکھنے کے بعد اس مذہب کو قبول کر لیں گے۔آپ کا فقرہ مذکورہ بالا مجھے امید دلاتا ہے کہ آپ اس سے انکار نہ کریں گے پس اگر آپ مستعد ہیں تو چند سطریں تین اخباروں یعنی نو را فشاں اور منشور محمدی اور کسی آریہ کے اخبار میں چھپوا دیں کہ ہم خدا تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اگر اس مباحثہ کے بعد جس کی تاریخ ۲۲ مئی ۱۸۹۳ء قرار پائی ہے مرزا غلام احمد کی خدا تعالی مدد کرے اور کوئی ایسا نشان اس کی تائید میں خدا تعالیٰ ظاہر فرمادے کہ جو اُس نے قبل از وقت بتلا دیا ہوا اور جیسا کہ اس نے بتلایا ہو وہ پورا بھی ہو جاوے تو ہم اس نشان کے دیکھنے کے بعد بلا توقف مسلمان ہو جائیں گے اور ہم یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اس نشان کو بغیر کسی قسم کی بیہودہ نکتہ چینی کے قبول کرلیں گے اور کسی حالت میں وہ نشان نامعتبر اور قابلِ اعتراض نہیں سمجھا جائے گا۔بغیر اس صورت کے کہ ایسا ہی نشان اسی برس کے اندر ہم بھی دکھلا دیں مثلاً اگر نشان کے طور پر یہ پیش گوئی ہو کہ فلاں وقت کسی خاص فرد پر یا ایک گروہ پر فلاں حادثہ وارد ہوگا اور وہ پیش گوئی اس میعاد میں پوری ہو جائے گی بغیر اس کے کہ اس کی نظیر اپنی طرف سے پیش کریں بہر حال قبول کرنی پڑے گی۔اور اگر ہم نشان دیکھنے کے بعد دین اسلام اختیار نہ