حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 148
حیات احمد ۱۴۸ جلد چهارم حصہ کے متعلق جو روحانی مقابلہ کا تھا جواب دیا۔جس پر حضرت نے ان کو براہ راست ذیل کا مکتوب لکھا جس میں آتھم صاحب کے خط کا متن بھی آگیا ہے۔مسٹر عبد اللہ آتھم کے خط کا جواب آج اس اشتہار کے لکھنے سے ابھی میں فارغ ہوا تھا کہ مسٹرعبداللہ آتھم صاحب کا خط بذریعہ ڈاک مجھے کو ملا یہ خط اس خط کا جواب ہے جو میں نے مباحثہ مذکورہ بالا کے متعلق صاحب موصوف اور نیز ڈاکٹر کلارک صاحب کی طرف لکھا تھا۔سواب اس کا بھی جواب ذیل میں بطور قَوْلُہ اور اَقُوْلُ کے لکھتا ہوں۔قوله۔ہم اس امر کے قائل نہیں ہیں کہ تعلیمات قدیم کے لئے معجزہ جدید کی کچھ بھی ضرورت ہے۔اس لئے ہم معجزہ کے لئے نہ کچھ حاجت اور نہ استطاعت اپنے اندر دیکھتے ہیں۔اقُوْلُ۔صاحب مَن میں نے معجزہ کا لفظ اپنے خط میں استعمال نہیں کیا بے شک معجزہ دکھلانا نبی اور مرسل من اللہ کا کام ہے نہ ہر ایک انسان کا لیکن اس بات کو تو آپ مانتے اور جانتے ہیں کہ ہر ایک درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور ایمانداری کے پھلوں کا ذکر جیسا کہ قرآن کریم میں ہے انجیل شریف میں بھی ہے مجھے امید ہے کہ آپ سمجھ گئے ہوں گے اس لئے طول کلام کی ضرورت نہیں مگر میں دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ایمانداری کے پھل دکھلانے کی بھی آپ کو استطاعت نہیں۔قَوْلُۀ۔بہر کیف اگر جناب کسی معجزہ کے دکھلانے پر آمادہ ہیں تو ہم اس کے دیکھنے سے آنکھیں بند نہ کریں گے اور جس قد ر ا صلاح اپنی غلطی کی آپ کے معجزہ سے کر سکتے ہیں اس کو اپنا فرض عین سمجھیں گے۔حمد حاشیہ۔اس کا ذکر دوسری جگہ آتا ہے۔(عرفانی)