حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 144 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 144

حیات احمد ۱۴۴ جلد چهارم اس سے اتفاق رائے ہے بلکہ در حقیقت میں اس مضمون کو پڑھنے سے ایسا خوش ہوا کہ میں اس مختصر خط میں اس کی کیفیت بیان نہیں کر سکتا۔یہ بات سچ اور بالکل سچ ہے کہ یہ روز کے جھگڑے اچھے نہیں اور ان سے دن بدن عداوتیں بڑھتی ہیں اور فریقین کی عافیت اور آسودگی میں خلل پڑتا ہے۔اور یہ بات تو ایک معمولی سی ہے اور اس سے بڑھ کر نہایت ضروری اور قابل ذکر یہ بات ہے کہ جس حالت میں دونوں فریق مرنے والے اور دنیا کو چھوڑنے والے ہیں تو پھر اگر با قاعدہ بحث کر کے اظہار حق نہ کریں تو اپنے نفسوں اور دوسروں پر ظلم کرتے ہیں۔اب میں دیکھتا ہوں کہ جنڈیالہ کے مسلمانوں کا ہم سے کچھ زیادہ حق نہیں بلکہ جس حالت میں خداوند کریم اور رحیم نے اس عاجز کو انہیں کاموں کے لئے بھیجا ہے تو ایک سخت گناہ ہوگا کہ ایسے موقعہ پر خاموش رہوں۔اس لئے میں آپ لوگوں کو اطلاع دیتا ہوں کہ اس کام کے لئے میں ہی حاضر ہوں۔یہ تو ظاہر ہے کہ فریقین کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کو اپنا اپنا مذ ہب بہت سے نشانوں کے ساتھ خدا تعالیٰ سے ملا ہے۔اور یہ بھی فریقین کو اقرار ہے کہ زندہ مذہب وہی ہو سکتا ہے کہ جن دلائل پر اُس کی صحت کی بنیاد ہے۔وہ دلائل بطور قصہ کے نہ ہوں بلکہ دلائل ہی کے رنگ میں اب بھی موجود اور نمایاں ہوں۔مثلاً اگر کسی کتاب میں بیان کیا گیا ہو کہ فلاں نبی نے بطور معجزہ ایسے ایسے بیماروں کو اچھا کیا تھا تو یہ اور اس قسم کے اور امور اس زمانے کے لوگوں کے لئے ایک قطعی اور یقینی دلیل نہیں ٹھہر سکتی بلکہ ایک خبر ہے جو منکر کی نظر میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال رکھتی ہے۔بلکہ منکر ایسی خبروں کو صرف ایک قصہ سمجھے گا۔اسی وجہ سے یورپ کے فلاسفر مسیح کے معجزات سے جو انجیل میں مندرج ہیں کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے بلکہ اس پر قہقہہ مار کر ہنستے ہیں۔پس جبکہ یہ بات ہے تو یہ نہایت آسان مناظرہ ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اہلِ اسلام کا کوئی فرد اس تعلیم اور علامات کے موافق جو کامل مسلمان ہونے کے لئے قرآن کریم