حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 141
حیات احمد ۱۴۱ جلد چهارم نہ تھا کہ ان کا مقابلہ اس رجل عظیم سے ہو جائے گا جس نے کہا ہے چہ ہیبت با بدادند این جواں کہ ناید کس به میدان محمد که میاں محمد بخش صاحب نے یہ خط حضرت اقدس کی خدمت میں بھیج دیا اور اس مناظرہ کی دعوت قبول کرنے کی استدعا فرمائی۔ان دنوں عام طور پر ڈاک ظہر اور کبھی عصر کے بعد آتی تھی۔راقم الحروف اُس وقت قادیان میں موجود تھا۔جیسا کہ میں اپنی پہلی آمد کا ذکر کر آیا ہوں حضرت اقدس خط لے کر بڑی خوشی اور جوش سے مجلس میں آئے اور اس دعوت مباحثہ کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ یہ ہماری عین خواہش کے مطابق موقعہ نکل آیا۔اور یہ لوگ خود اپنے تیار کردہ جال میں آپھنسے ہیں حق کھل جائے گا۔اور ایک عاجز بندے کی خدائی کا بت ٹوٹ جائے گا۔اسلام کی حقانیت روشن ہو جائے گی۔( یہ مفہوم آپ کے کلام کا میرے ذہن میں متحضر ہے ) غرض آپ بہت خوش تھے۔اور فرمایا کہ میں براہ راست ڈاکٹر کلارک کو جواب بھیج رہا ہوں تا کہ اس معاملہ میں تو قف نہ ہو۔چنانچہ آپ نے ڈاکٹر کلارک ۲۳ را پریل ۱۸۹۳ء کو ایک رجسٹر ڈ خط لکھا۔مخط و کتابت متعلق مباحثہ امرتسر اس تمام خط و کتابت کو ترتیب وار درج کر دیا جاتا ہے۔(۱) ڈاکٹر کلارک کا خط پانڈہ جی کے نام میاں محمد بخش صاحب و جملہ شر کا ء اہلِ اسلام جنڈیالہ جناب من! بعد سلام کے واضح رائے شریف ہو کہ چونکہ ان دنوں میں قصبہ جنڈیالہ میں مسیحیوں اور اہلِ اسلام کے درمیان دینی چرچے بہت ہوتے ہیں۔اور چند لے ترجمہ اس جواں کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے میدان میں کوئی بھی مقابلہ پر ) نہیں آتا۔سے حاشیہ۔حجتہ الاسلام وغیرہ میں طباعت کی غلطی سے ۱۳ مئی ۱۸۹۳ء طبع ہو گیا ہے دراصل ۱۳ را پریل ۱۸۹۳ ء ہے۔(عرفانی)