حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 5 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 5

حیات احمد هُوَالنَّـ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحم کے ساتھ تمہیدی نوٹ جلد چهارم اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالسَّلَامُ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ وَسَيِّدِ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخَرِيْنَ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ اَمَّا بَعْدُ اللہ تعالیٰ کے محض فضل و رحم سے میں حکمۃ الرحمان فی آیات القرآن“ کو شائع کرنے کی توفیق پاسکا لِلهِ الْحَمْدُ وَالشُّكْرُ۔اس کے بعد تاریخ القرآن ہی کا عزم تھا کہ وہ ایک عرصہ سے معرض التوا میں ہے۔مگر بعض احباب کی متواتر تحریک پر حیات احمد ہی کی تعمیل کی طرف قدم اٹھا نا پڑا۔میرے مخدوم ا۔میرزا بشیر احمد صاحب نے خصوصیت سے لکھا کہ کم از کم ۱۸۹۷ء تک تو پوری ہو جاوے مگر میں اپنے مولیٰ کریم کے فضل پر بھروسہ کرتا ہوں۔کہ وہ مجھے ۱۹۰۸ء ( یوم وصال) تک کی توفیق دیدے گا اس لئے کہ یہ میرا کام نہیں خود اللہ تعالیٰ ہی کے قائم کردہ سلسلہ کا کام ہے۔میری یہ امید اور یقین اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم کو دیکھتے ہوئے ہے جو اس نے اب تک اس اَحْقَرُ النَّاس پر کیا ہے۔۲۔اس جلد میں میرا عزم تو یہ ہے کہ ۱۹۰۰ ء تک کے واقعات آجاویں۔لیکن یہ دراصل موقوف ہے احباب کے تعاون پر جو لوگ میرے کسی طرز عمل کو پسند نہ کرتے ہوں اور محض اس وجہ سے اس کام میں شریک نہ ہوتے ہوں انہیں اپنے نظریہ پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔یہ تو ان کے اور میرے آقا (علیہ الصلوۃ والسلام) کے کارنامہ کی تدوین ہے۔میں تو اس آدمی سے بھی تعاون