حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 137 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 137

حیات احمد ۱۳۷ جلد چهارم قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص حضرت مسیح ابن مریم کا مرکز پھر زندہ رہنا ثابت کر دے تو ہم یکلخت عیسائی مذہب کو چھوڑ دیں گے۔لیکن افسوس کہ ہمارے گزشتہ علماء نے عیسائیوں کی مقابل پر کبھی اس طرف توجہ نہ کی حالانکہ اس ایک ہی بحث میں تمام بحثوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔دنیا میں ایسا نادان کون ہے کہ کسی مردہ کا نام اِلهُ الْعَالَمِيْن رکھے۔اور جو مر چکا ہے اس میں حَى لَا يَمُوت کے صفات قائم کرے۔عیسائی مذہب کا ستون جس کی پناہ میں انگلستان اور جرمن اور فرانس اور امریکہ اور روس وغیرہ کے عیسائی رَبُّنَا الْمَسِیح کہہ رہے ہیں صرف ایک ہی بات ہے اور وہ یہ ہے کہ بد قسمتی سے مسلمانوں اور عیسائیوں نے برخلاف کتاب الہی یہ خیال کر لیا ہے کہ مسیح آسمان پر مدت دراز سے بقید حیات چلا آتا ہے۔اور کچھ شک نہیں کہ اگر یہ ستون ٹوٹ جائے تو اس خیال باطل کے دور ہو جانے سے صفحہء دنیا یکلخت مخلوق پرستی سے پاک ہو جائے۔اور تمام یورپ اور ایشیا اور امریکہ ایک ہی مذہب توحید میں داخل ہوکر بھائیوں کی طرح زندگی بسر کریں۔لہذا میں نہایت ادب اور عاجزی سے پادری صاحبوں کی خدمت میں یہ ہدیہء اشتہار روانہ کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر ثابت کر دیا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم ہمیشہ کے لئے فوت ہو چکے ہیں اور اس قدر ثبوت میرے پاس ہیں کہ کسی منصف کو بجز ماننے کے چارہ نہیں۔سو میں امید کرتا ہوں کہ پادری صاحبان اس بارہ میں مجھ سے گفتگو کر کے میرے نافہم بھائیوں کو اس سے فائدہ پہنچا دیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ پادری صاحبان کی گفتگو اظہار حق کے لئے نہایت مفید ہوگی۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتهر میرزا غلام احمد قادیانی لود یا نه ۲۰ مئی ۱۸۹۱ء تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحه ۱۲ تا ۱۴۔مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۱۸۸ تا ۱۹۰ طبع بار دوم ) یہاں سے اشتہار پھٹا ہوا ہے۔(مرتب)