حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 130
حیات احمد ۱۳۰ جلد چهارم کر کے جلد میدان مباہلہ میں آویں اور اگر نہ آئے اور نہ تکفیر اور تکذیب سے باز آئے تو خدا کی لعنت کے نیچے مریں گے۔اب ہم ان مولوی صاحبوں کے نام ذیل میں لکھتے ہیں۔جن میں بعض تو اس عاجز کو کافر بھی کہتے ہیں اور مفتری بھی۔اور بعض کا فر کہنے سے تو سکوت اختیار کرتے ہیں مگر مفتری اور کذاب اور دجال نام رکھتے ہیں۔بہر حال یہ تمام مکفرین اور مکذبین مباہلہ کے لئے بلائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سجادہ نشین بھی ہیں جو مکفر یا مکذب ہیں اور درحقیقت ہر ایک شخص جو باخدا اور صوفی کہلاتا ہے اور اس عاجز کی طرف رجوع کرنے سے کراہت رکھتا ہے وہ مکذبین میں داخل ہے کیونکہ اگر مکذب نہ ہوتا تو ایسے شخص کے ظہور کے وقت جس کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی تھی کہ اس کی مدد کرو اور اس کو میرا سلام پہنچاؤ اور اس کے مخلصین میں داخل ہو جاؤ تو ضرور اس کی جماعت میں ضرور داخل ہو جاتا۔اور صاف باطن فقرا کے لئے یہ موقعہ ہے کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر اور ہر یک کدورت سے الگ ہوکر اور کمال تضرع اور ابتہال سے اس پاک جناب میں توجہ کر کے اس راز سر بستہ کا اس کے کشف اور الہام سے انکشاف چاہیں اور جب خدا کے فضل سے انہیں معلوم کرایا جائے تو پھر جیسا کہ ان کی انتقا کی شان کے لائق ہے محبت اور اخلاص اور کامل رجوع سے ثواب آخرت حاصل کریں اور سچائی کی گواہی کے لئے کھڑے ہوجائیں۔مولویان خشک بہت سے حجابوں میں ہیں کیونکہ ان کے اندر کوئی سماوی روشنی نہیں۔لیکن جو لوگ حضرت احدیت سے کچھ مناسبت رکھتے ہیں اور تزکیہ نفس سے انانیت کی تاریکیوں سے الگ ہو گئے ہیں وہ خدا کے فضل سے قریب ہیں اگر چہ بہت تھوڑے ہیں جو ایسے ہیں مگر یہ امت مرحومہ اُن سے خالی نہیں۔