حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 129 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 129

حیات احمد ۱۲۹ جلد چهارم مسلمانوں کو اس گورنمنٹ کی سچی خیر خواہی چاہیے اور رعایا ہو کر بغاوت کا خیال بھی دل میں لانا نہایت درجہ کی بدذاتی ہے۔اور میں نے ایسی کتابوں کو نہ صرف برٹش انڈیا میں پھیلایا ہے بلکہ عرب اور شام اور مصر اور روم اور افغانستان اور دیگر اسلامی بلاد میں محض للہی نیت سے شائع کیا ہے نہ اس خیال سے کہ یہ گورنمنٹ میری تعظیم کرے یا مجھے انعام دے۔کیونکہ یہ میرا امذہب اور میرا عقیدہ ہے جس کا شائع کرنا میرے پر حق واجب تھا۔تعجب ہے کہ یہ گورنمنٹ میری کتابوں کو کیوں نہیں دیکھتی اور کیوں ایسی ظالمانہ تحریروں سے ایسے مفسدوں کو منع نہیں کرتی۔ان ظالم مولویوں کو میں کس سے مثال دوں۔یہ ان یہودیوں سے مشابہ ہیں جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو ناحق دکھ دینا شروع کیا اور جب کچھ پیش نہ گئی تو گورنمنٹ روم میں مخبری کی کہ یہ شخص باغی ہے۔سو میں بار بار اس گورنمنٹ عادلہ کو یاد دلاتا ہوں کہ میری مثال مسیح کی مثال ہے۔میں اس دنیا کی حکومت اور ریاست کو نہیں چاہتا اور بغاوت کو سخت بدذاتی سمجھتا ہوں۔میں کسی خونی مسیح کے آنے کا قائل نہیں اور نہ خونی مہدی کا منتظر صلح کاری سے حق کو پھیلانا میرا مقصد ہے۔اور میں تمام ان باتوں سے بیزار ہوں جو فتنہ کی باتیں ہوں یا جوش دلانے والے منصوبے ہوں۔گورنمنٹ کو چاہیے کہ بیدار طبعی سے میری حالت کو جانچے اور گورنمنٹ روم کی شتاب کاری سے عبرت پکڑے اور خودغرض مولویوں یا دوسرے لوگوں کی باتوں کو سند نہ سمجھ لیوے کہ میرے اندر کھوٹ نہیں اور میرے لبوں پر نفاق نہیں۔اب میں پھر اپنے کلام کو اصل مقصد کی طرف رجوع دے کر ان مولوی صاحبوں کا نام ذیل میں درج کرتا ہوں جن کو میں نے مباہلہ کے لئے بلایا ہے۔اور میں پھر ان سب کو اللہ جل شانہ کی قسم دیتا ہوں کہ مباہلہ کے لئے تاریخ اور مقام مقرر