حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 128 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 128

حیات احمد ۱۲۸ جلد چهارم میں مر گیا تو ایک خبیث کے مرنے سے دنیا میں ٹھنڈ اور آرام ہو جائے گا۔میرے مباہلہ میں یہ شرط ہے کہ اشخاص مندرجہ ذیل میں سے کم سے کم دس آدمی حاضر ہوں اس سے کم نہ ہوں اور جس قدر اس سے زیادہ ہوں میری خوشی اور مراد ہے کیونکہ بہتوں پر عذاب الہی کا محیط ہو جانا ایک ایسا کھلا کھلا نشاں ہے جو کسی پر مشتبہ نہیں رہ سکتا۔گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان کہ خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ تکفیر اور توہین کو چھوڑے اور نہ ٹھٹھا کرنے والوں کی مجلسوں سے الگ ہو۔اور اے مومنو! برائے خدا تم سب کہو کہ آمین۔مجھے افسوس سے یہ بھی لکھنا پڑا کہ آج تک ان ظالم مولویوں نے اس صاف اور سید ھے فیصلہ کی طرف رخ ہی نہیں کیا تا اگر میں ان کے خیال میں کا ذب تھا تو احکم الحاکمین کے حکم سے اپنی سزا کو پہنچ جاتا۔ہاں بعض ان کے اپنی بدگوہری کی وجہ سے گورنمنٹ انگریزی میں جھوٹی شکایتیں میری نسبت لکھتے رہے اور اپنی عداوت باطنی کو چھپا کر مخبروں کے لباس میں نیش زنی کرتے رہے اور کر رہے ہیں جیسا کہ شیخ بطالوی عَلَيْهِ مَا يَسْتَحِقُهُ۔اگر ایسے لوگ خدا تعالیٰ کی جناب سے ردشدہ نہ ہوتے تو مجھے دکھ دینے کے لئے مخلوق کی طرف التجا نہ لے جاتے۔یہ نادان نہیں جانتے کہ کوئی بات زمین پر نہیں ہوسکتی جب تک کہ آسمان پر نہ ہو جائے۔اور گورنمنٹ انگریزی میں یہ کوشش کرنا کہ گویا میں مخفی طور پر گورنمنٹ کا بدخواہ ہوں یہ نہایت سفلہ پن کی عداوت ہے۔یہ گورنمنٹ خدا کی گنہگار ہوگی اگر میرے جیسے خیر خواہ اور سچے وفادار کو بدخواہ اور باغی تصور کرے۔میں نے اپنی قلم سے گورنمنٹ کی خیر خواہی میں ابتدا سے آج تک وہ کام لیا ہے جس کی نظیر گورنمنٹ کے ہاتھ میں ایک بھی نہیں ہوگی اور میں نے ہزار ہا روپیہ کے صرف سے کتابیں تالیف کر کے ان میں جابجا اس بات پر زور دیا ہے کہ