حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 123
حیات احمد ۱۲۳ جلد چهارم برس کے عرصہ سے خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھ رہا ہے اب تک کسی ذلت کی مار سے ہلاک نہ ہوا۔اور کیا یہ بات سمجھ نہیں آسکتی کہ جس سلسلہ کا تمام مدار ایک مفتری کے افترا پر تھا وہ اتنی مدت تک کسی طرح چل نہیں سکتا تھا اور بیت اور قرآن شریف دونوں گواہی دے رہے ہیں کہ خدا پر افترا کرنے والا جلد تباہ ہو جاتا ہے۔کوئی نام لینے والا اُس کا باقی نہیں رہتا اور انجیل میں بھی لکھا ہے کہ اگر یہ انسان کا کاروبار ہے تو جلد باطل ہو جائے گا۔لیکن اگر خدا کا ہے تو ایسا نہ ہو کہ تم مقابلہ کر کے مجرم ٹھہر و۔اللہ جَلَّ شَانُهُ قرآن شریف میں فرماتا ہے اِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَّكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفُ گذاب سے یعنی اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ اس پر پڑے گا۔اور اگر یہ سچا ہے تو تم اس کی ان بعض پیشگوئیوں سے بچ نہیں سکتے جو تمہاری نسبت وہ وعدہ کرے۔خدا ایسے شخص کو فتح اور کامیابی کی راہ نہیں دکھلاتا جو فضول گو اور کذاب ہو۔اب اے مخالف مولویو! اور سجادہ نشینوں ! یہ نزاع ہم میں اور تم میں حد سے زیادہ انوٹ۔اگر کسی کے دل میں یہ سوال پیدا ہو کہ دنیا میں صدہا جھوٹے مذہب ہیں جو ہزاروں برسوں سے چلے آتے ہیں حالانکہ ابتدا ان کی کسی کی افترا سے ہی ہوگی۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ افتر ا سے مراد ہمارے کلام میں وہ افترا ہے کہ کوئی شخص اپنی طرف سے بعض کلمات تراش کر یا ایک کتاب بنا کر پھر یہ دعوی کرے کہ یہ باتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور اُس نے مجھے الہام کیا ہے اور ان باتوں کے بارے میں میرے پر اس کی وحی نازل ہوئی ہے حالانکہ کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔سو ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افترا کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا۔اور خدا کی پاک کتاب صاف گواہی دیتی ہے کہ خدا تعالیٰ پر افترا کر نیوالے جلد ہلاک کئے گئے ہیں۔اور ہم لکھ چکے ہیں کہ توریت بھی یہی گواہی دیتی ہے اور انجیل بھی اور فرقان مجید بھی ہاں جس قدر دنیا میں جھوٹے مذہب نظر آتے ہیں جیسے ہندوؤں اور پارسیوں کا مذہب ان کی نسبت یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کسی جھوٹے پیغمبر کا سلسلہ چلا آتا ہے بلکہ اصل حقیقت ان میں یہ ہے کہ خود لوگ غلطیوں میں پڑتے پڑتے ایسے المؤمن: ٢٩