حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 122 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 122

حیات احمد ۱۲۲ جلد چهارم اُسی نے میرا نام عیسی رکھا ہے اور کسر صلیب کے لئے مجھے مامور کیا ہے لیکن نہ کسی جسمانی حربہ سے بلکہ آسمانی حربہ سے اور یہ سب اُس کا کلام ہے اور وہ خاص الہامات اُس کے جو اس وقت میں مخالف مولویوں کو سناؤں گا ان میں سے بطور نمونہ چند الہامات اس جگہ لکھتا ہوں ان میں سے بعض الہامات بین ۲ برس کے عرصہ سے ہیں۔جو مختلف ترتیبوں اور کمی بیشی کے ساتھ بار بار القا ہوئے ہیں۔“ اس کے بعد حضرت نے الہامات نقل کئے ہیں اور ان کا ترجمہ ساتھ دیا ہے۔ان الہامات کے ماحصل کو آپ اس طرح پر بیان فرماتے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ ان الہامات میں میری نسبت بار بار بیان کیا گیا ہے کہ یہ خدا کا فرستادہ۔خدا کا مامور خدا کا طرف سے آیا ہے جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان لاؤ اور اس کا دشمن جہنمی ہے اور نیز ان تمام الہامات میں اس عاجز کی اس قدر تعریف اور توصیف ہے کہ اگر یہ تعریفیں در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو ہر یک مسلمان کو چاہیے کہ تمام تکبر اور نخوت اور شیخی سے الگ ہو کر ایسے شخص کی فرمانبرداری کا جوا اپنی گردن پر لے لے جس کی دشمنی میں خدا کی لعنت اور محبت میں خدا کی محبت ہے لیکن اگر یہ تعریفیں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہیں اور یہ تمام کلمات جو الہام کے دعوی پر پیش کئے گئے ہیں خدائے قادر و قدوس کا الہام نہیں ہے بلکہ ایک دقبال کذاب نے چالا کی کی راہ سے ان کو آپ بنالیا ہے اور بندگانِ خدا کو یہ دھوکہ دینا چاہا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے الہام ہیں تو در حقیقت وہ جو نہایت بیبا کی سے خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے۔خدا تعالی کی گرجنے والی صاعقہ کے نیچے کھڑا ہے اور اُس کے مشتعل غضب کا نشانہ ہے۔اور کوئی اس کو اس قھار اور غیور کے ہاتھ سے چھوڑا نہیں سکتا۔کیا یہ بات تعجب میں نہیں ڈالتی کہ ایسا کذاب اور دجال اور مفتری جو برابر ہیں