حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 3
حیات احمد بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلَّيْ عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ عرض حال جلد چهارم الْحَمْدُ لِلهِ ثُمَّ اَلْحَمْدُ لِلهِ کہ حیات احمد کی تکمیل کا کام جو ۱۸ سال تک بند رہنے کے بعد دسمبر ۱۹۵۱ء میں شروع ہوا تھا اس سلسلہ میں سال رواں کی پہلی ششماہی میں حیات احمد کے عہدِ جدید کی دوسری اور سلسلہ میں چوتھی جلد شائع کرنے کی توفیق ملی۔اس جلد میں ۱۸۹۳ء سے ۱۸۹۷ء تک کے حالات درج ہیں۔جیسا کہ میں نے پچھلی اشاعت میں ذکر کیا تھا کہ اس سے پہلے کے دو نمبر حضرت نواب محمد دین اور حضرت سیٹھ حسن یادگیری کے دست اعانت کا نتیجہ تھا اور اس جلد کی اشاعت میں ۱۴ جزو کے کاغذ کے لیے عزیز مکرم مولوی محمد معین الدین احمدی چنتہ کنٹہ نے ہاتھ بڑھایا اور سچ تو یہ ہے کہ اگر وہ اس معاملہ میں میری کسی تحریک کے بغیر آگے نہ آتے تو شاید میں اس قدر جلد شائع نہ کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذکر کو بلند کرنا بھی ایک عبادت ہے یہ حقیقت عارف سمجھ سکتا ہے اس اعانت اور اخلاص کا مقام اور بھی بڑھ جاتا ہے کہ جب بغیر کسی تحریک کے ہو۔اللہ تعالیٰ انہیں بیش از پیش خدمت دین کی توفیق روزی کرے۔اگر یہ کتاب جلد سے نکل گئی ، تو دسمبر تک انشاء الله الــعـزيـز اس عہد جدید کی تیسری جلد جو ۱۸۹۸ء سے ۱۹۰۱ء تک کے واقعات پر مشتمل ہو گی شائع کرنے کی امید رکھتا ہوں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے کسی اہل دل کو توفیق دے کہ وہ میرا ہاتھ بٹائے میں اپنی حقیر کوشش کو اپنے محسن مولیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے جاری رکھوں گا جس نے اس پیرانہ سالی میں توفیق دی اور سامان پیدا کر دیا۔اس کے فضل سے کیا بعید کہ اس کی تعمیل کی توفیق پاؤں۔وَ مَا ذَالِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ الْمُسْتَعَانُ