حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 118
حیات احمد ۱۱۸ جلد چهارم حدیث قرآن کی صریح پیشگوئی سے مخالف ہو جائے گی۔کیوں کہ قرآن شریف نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ قیامت تک زمین پر غلبہ اور تسلط دو قوموں میں سے ایک قوم کا ہوتا رہے گا۔یا اہلِ اسلام کا یا نصاری کا۔پس قرآن کی رو سے ایسے دجال کو جو اپنی خدائی کا دعوئی لے کر آئے گا۔زمین پر قدم رکھنے کی جگہ نہیں۔اور قرآن اس کے وجود کو روکتا ہے ہاں استعارہ کے طور پر نصاریٰ کا دعوی خدائی ثابت ہے کیوں کہ چاہتے ہیں کہ کلوں کے زور سے تمام زمین و آسمان کو اپنے قابو میں کر لیں یہاں تک کہ مینہ برسانے کی قدرت بھی حاصل ہو جائے پس اس طرح وہ خدائی کا دعوی کرتے ہیں۔غرض یہ وہ امور ہیں جن کو حال کے مولوی نہیں سمجھتے اور اہلِ اسلام میں انہوں نے بڑا ہی بھاری فتنہ اور تفرقہ ڈال رکھا ہے اور نہایت بے ہودہ اور رکیک تاویلات سے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے منہ پھیر رہے ہیں۔دعویٰ کرتے تھے کہ ہم اہل حدیث ہیں مگر اب تو انہوں نے قرآن کو بھی چھوڑا اور حدیث کو بھی۔سو جبکہ میں نے دیکھا کہ قرآن شریف اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے دلوں میں عظمت نہیں اور جلیل الشان اکا بر ائمہ کی شہادت بھی جیسا کہ امام بخاری اور ابن حزم اور امام مالک کی شہادت جو حضرت عیسی کے فوت ہو جانے کی نسبت بار بار لکھی گئی ہے۔ان کے نزدیک کچھ چیز نہیں ہے مجھ کو اس پہلو سے بکلی نومیدی ہوئی کہ وہ منقولی بحث و مباحثہ کے ذریعہ سے ہدایت پاسکیں پس خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ میں دوسرا پہلو اختیار کروں جو اصل بنیا د میرے دعوی کی ہے یعنی اپنے بچے ملہم ہونے کا ثبوت کیونکہ اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر وہ لوگ مجھے خدائے تعالیٰ کی طرف کا حاشیہ۔منقولی بحث مباحثہ کی کتابیں جو میری طرف سے چھپی ہیں جن میں ثابت کیا گیا ہے جو درحقیقت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور دوبارہ آنا ان کا بطور بروز مراد ہے نہ بطور حقیقت وہ یہ ہیں۔فتح اسلام۔توضیح مرام - ازالہ اوہام۔اتمام الحجہ تحفہ بغداد - حمامۃ البشری - نور الحق دو حصہ۔کرامات الصادقین۔ال سر الخلافہ۔آئینہ کمالات اسلام۔