حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 117
حیات احمد 112 جلد چهارم سکتا تو خدا تعالیٰ جس کا علم ماضی اور حال اور مستقبل پر محیط ہے اسی کا نام دجال اکبر رکھتا نہ ان کا نام۔پھر یہ نشان دجبال اکبر کا جو حدیث بخاری کے صریح اس اشارے سے نکلتا ہے کہ يَكْسِرُ الصَّلِيْب صاف جتلا رہا ہے کہ اس دقبال اکبر کی شان میں سے یہ ہوگا کہ وہ مسیح کو خدا ٹھہرائے گا۔اور مدار نجات صلیب پر رکھے گا۔یہ بات عارفوں کے لئے نہایت خوشی کا موجب ہے کہ اس جگہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا نظارہ ہو گیا ہے۔جس سے تمام حقیقت اس متنازعہ فیہ مسئلہ کی کھل گئی۔کیونکہ قرآن نے تو اپنے صریح لفظوں میں دجالِ اکبر پادریوں کو ٹھہرایا اور ان کے دجل کو ایسا عظیم الشان دجل قرار دیا ہے کہ قریب ہے جو اس سے زمین و آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔اور حدیث نے مسیح موعود کی حقیقی علامت یہ بتلائی کہ اس کے ہاتھ پر کسر صلیب ہو گا۔اور وہ دجال اکبر کو قتل کرے گا۔ہمارے نادان مولوی نہیں سوچتے کہ جب کہ مسیح موعود کا خاص کام کسر صلیب اور قتل دقبال اکبر ہے۔اور قرآن نے خبر دی ہے کہ وہ بڑا دجل اور بڑا فتنہ جس سے قریب ہے کہ نظام اس عالم کا درہم برہم ہو جائے اور خاتمہ اس دنیا کا ہو جائے وہ پادریوں کا فتنہ ہے تو اس سے صاف طور پر کھل گیا کہ پادریوں کے سوا اور کوئی دجال اکبر نہیں ہے۔اور جو شخص اب اس فتنہ کے ظہور کے بعد اور کی انتظار کرے، وہ قرآن کا مکذب ہے۔اور نیز جب کہ لغت کی رو سے بھی دجال ایک گروہ کا نام ہے جو اپنے دجل سے زمین کو پلید کرتا ہے اور حدیث کی رو سے نشان دجال اکبر کا حمایت صلیب ٹھہرا تو باوجود اس کھلی کھلی تحقیق کے وہ شخص نہایت درجہ کور باطن ہے کہ جواب بھی حال کے پادریوں کو دنبال اکبر نہیں سمجھتا۔ایک اور بات ہے جس سے ہمارے نادان مولوی اس حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں کہ وہ اس بات کے خود قائل ہیں کہ دجال معہود کا بجز حرمین کے تمام زمین پر تسلط ہو جائے گا۔سو اگر دجال سے مراد کوئی اور رکھا جائے تو یہ