حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 113
حیات احمد جلد چهارم لدھیانہ، مولوی محمد حسن صاحب رئیس لدھیانہ، میاں نذیر حسین دہلوی، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی، میاں میر حد رشاہ وزیر آبادی، میاں محمد اسحاق پٹیالوی۔مرزا غلام احمد قادیانی ۲۵ / اپریل ۱۸۹۳ء تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۲۵ تا ۲۹ مجموعه اشتہارات جلد ا صفحه ۳۲۴ تا ۳۲۷ طبع بار دوم ) یہ مباہلہ بالآخر عیسائیوں کے ساتھ جنگ مقدس کے بعد امرتسر میں بمقام عیدگاہ ہوا۔جس کا ذکر اپنے موقعہ پر آتا ہے۔مباہلہ کی یہ دعوت ۱۸۹۵ء میں بھی دوہرائی گئی۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دعوت مباہلہ اور روحانی مقابلہ کے اس پہینچ کو ایک جائی طور پر پیش کر دیا جائے۔جیسا کہ میں نے پنڈت لیکھرام کی پیشگوئی کے متعلق اس کے پورا ہونے کے واقعہ تک تمام حالات کو جمع کر دیا ہے۔مباہلہ کی یہ دعوت آپ نے انجام آتھم (جو ۱۸۹۵ء میں شائع ہوا) کے ساتھ صفحہ ۴۵ سے صفحہ ۷۲ تک دعوت قوم کے نام سے شائع کی اور اس دعوت میں آپ نے کچھ حصہ الہامات کا بھی درج فرمایا۔چونکہ وہ سارا مضمون انجام آتھم کا ایک حصہ ہے اس لئے اس کتاب کو تو اصل کتاب ہی میں پڑھا جائے۔یہاں میں اس کے بعض اقتباسات درج کروں گا یہ دعوت مباہلہ ہندوستان کے مشہور ومعروف علماء و مشائخ کے نام تھی مگر ان میں سے کسی ایک کو بھی اس روحانی مقابلہ میں آنے کی ہمت نہ ہوئی۔اور عجیب تر بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو اس مباہلہ کے لئے بلایا گیا تھا قبل از وقت اس عذاب کی نوعیت بھی بیان کر دی گئی تھی۔جو مباہلہ میں آنے والوں پر نازل ہوگا۔اور اس امر کی بھی وضاحت کر دی گئی کہ اگر وہ گریز کریں تب بھی عذاب کا مزہ چکھے بغیر نہ رہیں گے چنانچہ اکثر ایسا ہی ہوا۔اب میں اس دعوت مباہلہ کے بعض اقتباس درج کرتا ہوں۔