حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 111
حیات احمد جلد چهارم وَقَالُوا قَلُوْبُنَا غُلَفٌ بَلْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلًا مَا يُؤْمِنُوْنَ - وَقَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ بَلْ طَبَعَ اللهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا یعنی کا فر کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں۔ایسے رقیق اور پتلے دل نہیں کہ حق کا انکشاف دیکھ کر اس کو قبول کریں۔اللہ جل شانہ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ یہ کچھ خوبی کی بات نہیں بلکہ لعنت کا اثر ہے جو دلوں پر ہے یعنی لعنت جب کسی پر نازل ہوتی ہے اس کے نشانوں میں سے یہ بھی ایک نشان ہے کہ دل سخت ہو جاتا ہے اور گو کیسا ہی حق کھل جائے پھر انسان اس حق کو قبول نہیں کرتا۔سو یہ حافظ صاحب کی اسی وقت کی ایک کرامت ظاہر ہوئی کہ دشمن نے مسخ شدہ فرعون کی طرح اسی وقت مباہلہ کے بعد ہی ایسی باتیں شروع کر دیں گویا اسی وقت لعنت نازل ہو چکی تھی۔اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ یہ وہی عبدالحق ہے کہ جس نے الہام کا بھی دعوی کیا تھا۔اب ناظرین ذرا ایک انصاف کی نظر اس کے حال پر ڈالیں کہ یہ شخص سچائی سے دوستی رکھتا ہے یا دشمنی۔ظاہر ہے کہ مہم وہ شخص ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ سچائی کے پیاسے اور بھوکے ہوتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ سچائی ہمارے ساتھ نہیں بلکہ فریق مخالف کے ساتھ ہے اسی وقت اپنی ضد کو چھوڑ دیتے ہیں اور حق کے قبول کرنے کے لئے نگ و ناموس بلکہ موت سے بھی نہیں ڈرتے۔اب سوچنے ہی کا مقام ہے کہ عبدالحق نے آپ ہی مباہلہ کو معیار حق و باطل ٹھہرا کر اشتہار دیا اور جب ایک مردخدا اس کے مقابل پر اٹھا اور مباہلہ کیا تو ساتھ ہی فکر پڑی کہ ایسا عذاب نازل نہ ہو کہ پھر مجھ کو حق کے قبول کرنے کے لئے مجبور کیا جاوے۔تب اسی وقت اس نے اسی مجلس میں کہہ دیا کہ اگر وہ لعنت جو میں نے اپنے ہی منہ سے اپنے پر کی ہے مجھ پر نازل ہوگئی اور میرا جھوٹا ہونا کھل گیا تب بھی میں سچ کو قبول نہیں کروں گا۔گو میں سو ر اور بندر اور ریچھ البقرة: ٨٩ النساء: ۱۵۶