حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 110 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 110

حیات احمد 11۔جلد چهارم عذاب الہی کی اپنے لئے درخواست کر چکے لہذا اب میں تو اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ اگر اس لعنت اور اس عذاب کی درخواست کا اثر مجھ پر وارد ہوا اور کوئی ذلت اور رسوائی مجھ کو پیش آگئی تو میں اپنے اس عقیدہ سے رجوع کرلوں گا۔سواب تم بھی اس وقت اپنا ارادہ بیان کرو کہ اگر تم خدا تعالیٰ کے نزدیک کا ذب ٹھہرے اور کچھ لعنت اور عذاب کا اثر تم پر وارد ہو گیا تو تم بھی اپنے اس تکفیر کے عقیدے سے رجوع کرو گے یا نہیں۔فی الفور عبدالحق نے صاف جواب دیا کہ اگر میں اپنی اس بددعا سے سو راور بندر اور ریچھ بھی ہو جاؤں۔تب بھی میں اپنا یہ عقیدہ تکفیر ہرگز نہ چھوڑوں گا اور کافر کافر کہنے سے باز نہ آؤں گا۔تب حاضرین کو نہایت تعجب ہوا کہ جس مباہلہ کو حق اور باطل کے آزمانے کے لئے اس نے معیار ٹھہرایا تھا۔اور جو قرآن کریم کی رو سے بھی حق و باطل میں فرق کرنے کے لئے ایک معیار ہے کیونکر اور کس قدر جلد اس معیار سے یہ شخص پھر گیا۔اور زیادہ تر ظلم اور تعصب اس سے ظاہر ہوا کہ وہ اس بات کے لئے تو تیار ہے کہ فریق مخالف پر مباہلہ کے بعد کسی قسم کا عذاب نازل ہو اور وہ اس کے اس عذاب کو اپنے صادق ہونے کے لئے بطور دلیل اور حجت کے پیش کرے لیکن وہ اگر آپ مورد عذاب ہوجائیں تو پھر مخالف کے لئے اس کے کاذب ہونے کی یہ دلیل اور حجت نہ ہو۔اب خیال کرنا چاہیے کہ یہ قول عبدالحق کا کس قدر امانت اور دیانت اور ایمانداری سے دور ہے۔گویا مباہلہ کے بعد ہی اس کی اندرونی حالت کا مسخ ہونا کھل گیا۔یہودی لوگ جو مور د لعنت ہو کر بندر اور سو ر ہو گئے تھے ان کی نسبت بھی بعض تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ بظاہر وہ انسان ہی تھے لیکن اُن کی باطنی حالت بندروں اور سؤروں کی طرح ہو گئی تھی۔اور حق کے قبول کرنے کی توفیق بکلی ان سے سلب ہو گئی تھی اور مسخ شدہ لوگوں کی یہی تو علامت ہے کہ اگر حق بھی کھل جائے تو اس کو قبول نہیں کر سکتے۔جیسا کہ قرآن کریم اسی کی طرف اشارہ فرما کر کہتا ہے۔