حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 109 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 109

حیات احمد 1+9 جلد چهارم کمالات اسلام کے ساتھ بھی شامل ہے اور ابھی تک کوئی شخص مباہلہ کے لئے مقابلہ پر نہیں آیا۔مگر مجھ کو اس بات کے سننے سے بہت خوشی ہوئی کہ ہمارے ایک معزز دوست حافظ محمد یوسف صاحب نے ایمانی جوانمردی اور شجاعت کے ساتھ ہم سے پہلے اس ثواب کو حاصل کیا۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حافظ صاحب اتفاقاً ایک مجلس میں بیان کر رہے تھے کہ مرزا صاحب یعنی اس عاجز سے کوئی آمادہ مناظرہ یا مباہلہ نہیں ہوتا اور اسی سلسلہ گفتگو میں حافظ صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ عبدالحق نے جو مباہلہ کے لئے اشتہار دیا تھا اب اگر وہ اپنے تئیں سچا جانتا ہے تو میرے مقابلہ پر آوے۔میں اس سے مباہلہ کے لئے تیار ہوں۔تب عبدالحق جو اسی جگہ کہیں موجود تھا حافظ صاحب کے غیرت دلانے والے لفظوں سے طوعاً و کرہاً مستعد مباہلہ ہو گیا۔اور حافظ صاحب کا ہاتھ آکر پکڑ لیا کہ میں تم سے اسی وقت مباہلہ کرتا ہوں۔مگر مباہلہ صرف اس بارہ میں کروں گا کہ میرا یقین ہے کہ مرزا غلام احمد و مولوی حکیم نور الدین اور مولوی محمد احسن یہ تینوں مرتدین اور کذابین اور دجالین ہیں۔حافظ صاحب نے فی الفور بلا تامل منظور کیا کہ میں اس بارہ میں مباہلہ کروں گا کیونکہ میرا یقین ہے کہ یہ متینوں مسلمان ہیں۔تب اسی بات پر حافظ صاحب نے عبدالحق سے مباہلہ کیا اور گواہان مباہلہ منشی محمد یعقوب اور میاں نبی بخش اور میاں عبد الہادی اور میاں عبدالرحمن صاحب عمر پوری قرار پائے۔اور جب حسب دستور مباہلہ فریقین اپنے اپنے نفس پر لعنتیں ڈال چکے اور اپنے منہ سے کہہ چکے کہ یا الہی اگر ہم اپنے بیان میں سچائی پر نہیں تو ہم پر تیری لعنت نازل ہو یعنی کسی قسم کا عذاب ہم پر وارد ہو تب حافظ صاحب نے عبدالحق سے دریافت کیا کہ اس وقت میں بھی اپنے آپ پر بحالت کا ذب ہونے کے لعنت ڈال چکا اور خدا تعالیٰ سے عذاب کی درخواست کر چکا اور ایسا ہی تم بھی اپنے نفس پر اپنے ہی منہ سے لعنت ڈال چکے اور بحالت کا ذب ہونے کے