حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 90 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 90

حیات احمد جلد چهارم کھلے کھلے دعوی کے ساتھ آتا۔سو عنقریب میرے کاموں کے ساتھ تم مجھے شناخت کرو گے۔ہر ایک جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا اس وقت کے علماء کی نا سمجھی اس کی سد راہ ہوئی۔آخر جب وہ پہچانا گیا تو اپنے کاموں سے پہچانا گیا کہ تلخ درخت شریں پھل نہیں لاسکتا۔اور خدا غیر کو وہ برکتیں نہیں دیتا جو خاصوں کو دی جاتی ہیں۔اے لوگو ! اسلام نہایت ضعیف ہو گیا ہے۔اور اعداء دین کا چاروں طرف سے محاصرہ ہے اور تین ہزار سے زیادہ مجموعہ اعتراضات کا ہو گیا ہے ایسے وقت میں ہمدردی سے اپنا ایمان دکھاؤ اور مردان خدا میں جگہ پاؤ۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى بے کسے شد دین احمد ، پیچ خویش و یار نیسی ہر کسے درکار خود ، بادین احمد کار نیست ہر طرف سیل ضلالت ، صد ہزاراں تن ربود حیف بر چشمے کہ اکنوں نیز ہم ، ہشیار نیست این خداوندان نعمت! این چنیں غفلت چر است ک بے خود از خوابید ، یا خود بخت دیں بیدار نیست اے مسلماناں ، خدارا ، یک نظر برحال دیں گے آنچه بینم بلا یا حاجت اظہار نیست رختش بخیزید اے یلان آتش افتاد است ، در دیدنش از دور ، کار مردم دیندار نیست ترجمہ اشعار لے دین امد بیکس ہو گیا کوئی اس کا غم خوار ہیں ہر شخص اپنے اپنے کام میں مصروف ہے احمد کے دین سے کچھ واسطہ نہیں۔سے گمراہی کا سیلاب ہر طرف لاکھوں انسانوں کو بہا کر لے گیا اس آنکھ پر افسوس جواب بھی ہشیار نہیں ہوئی۔سے اے دولت مند و! اس قدر غفلت کیوں ہے تم ہی نیند سے بے ہوش ہو یا دین کی قسمت سو گئی ہے۔ے اے مسلمانو! خدا کے لئے دین کی طرف ایک نظر تو دیکھ لو میں جو بلائیں دیکھ رہا ہوں ان کے اظہار کی حاجت نہیں۔اے جوانمر دو اٹھو اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی ہے دین داروں کا یہ کام نہیں کہ اسے دور سے دیکھتے رہیں۔