حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 316 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 316

حیات احمد لکھی ہیں جن میں گویا روحانی طور پر ان کو تصدیق ہوئی ہے کہ یہ عاجز منجانب اللہ ہے اور اس عاجز کے مخالف باطل پر ہیں اور نیز وہ اپنی خوابوں کی بناء پر اپنی معیت دائمی ظاہر کرتے ہیں کہ گویا وہ اِس جہان اور اُس جہان میں ہمارے ساتھ ہیں ایسا ہی لوگوں میں بکثرت انہوں نے یہ خواہیں مشہور کی ہیں اور اپنے مریدوں اور مخلصوں کو جتلائیں اب ظاہر ہے کہ جس شخص نے اس قدر جوش سے اپنا اخلاص ظاہر کیا ایسے شخص کی حالت موجودہ کی نسبت اگر خدائے تعالیٰ کا الہام ہو کہ یہ شخص اس وقت ثابت قدم ہے۔متزلزل نہیں تو کیا اس الہام کو خلاف واقعہ کہا جائے گا۔بہت سے الہامات صرف موجودہ حالات کے آئینہ ہوتے ہیں عواقب امور سے ان کو کچھ تعلق نہیں ہوتا اور نیز یہ بات بھی ہے کہ جب تک انسان زندہ ہے اس کے سوء خاتمہ پر حکم نہیں کر سکتے کیونکہ انسان کا دل اللہ جل شانہ کے قبضہ میں ہے۔میر صاحب تو میر صاحب ہیں اگر وہ چاہے تو دنیا کے ایک بڑے سنگدل اور مختوم القلب آدمی کو ایک دم میں حق کی طرف پھیر سکتا ہے۔غرض یہ الہام حال پر دلالت کرتا ہے مال پر ضروری طور پر اس کی دلالت نہیں ہے اور مال ابھی ظاہر بھی نہیں ہے۔بہتوں نے راست بازوں کو چھوڑ دیا اور پکے دشمن بن گئے مگر بعد میں پھر کوئی کرشمہء قدرت دیکھ کر پشیمان ہوئے اور زار زار روئے اور اپنے گناہ کا اقرار کیا اور رجوع لائے۔انسان کا دل خدائے تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اُس حکیم مطلق کی آزمائشیں ہمیشہ ساتھ لگی ہوئی ہیں۔سو میر صاحب اپنی کسی پوشیدہ خامی اور نقص کی وجہ سے آزمالیش میں پڑ گئے اور پھر اس ابتلا کے اثر سے جوش ارادت کے عوض میں قبض پیدا ہوئی اور پھر قبض سے خشکی اور اجنبیت اور اجنبیت سے ترک ادب اور ترک ادب سے ختم علی القلب اور ختم علی القلب سے جہری عداوت اور ارادہ تحقیر و استحقاق و تو ہین پیدا ہو گیا۔عبرت کی جگہ ا یہ لفظ شاید استخفاف ہے۔جو اصل اشتہار میں استحقاق لکھا گیا۔(المرتب) جلد سوم