حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 317 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 317

حیات احمد ۳۱۷ ہے کہ کہاں سے کہاں پہنچے۔کیا کسی کے وہم یا خیال میں تھا کہ میر عباس علی کا یہ حال ہوگا۔مالک الملک جو چاہتا ہے کرتا ہے۔میرے دوستوں کو چاہئے کہ ان کے حق میں دعا کریں اور اپنے بھائی فروماندہ اور درگزشتہ کو اپنی ہمدردی سے محروم نہ رکھیں اور میں بھی انشاء اللہ الکریم دعا کروں گا۔میں چاہتا تھا کہ ان کے چند خطوط بطور نمونہ اس رسالہ میں نقل کر کے لوگوں پر ظاہر کروں کہ میر عباس علی کا اخلاص کس درجہ پر پہنچا تھا اور کس طور کی خواہیں وہ ہمیشہ ظاہر کیا کرتے تھے اور کن انکساری الفاظ اور تعظیم کے الفاظ سے وہ خط لکھتے تھے لیکن افسوس کہ اس مختصر رسالہ میں گنجایش نہیں۔انشاء اللہ القدیر کسی دوسرے وقت میں حسب ضرورت ظاہر کیا جائے گا۔یہ انسان کے تغیرات کا ایک نمونہ ہے کہ وہ شخص جس کے دل پر ہر وقت عظمت اور ہیبت اور کچی ارادت طاری رہتی تھی اور اپنے خطوط میں اس عاجز کی نسبت خَلِيْفَةُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ لکھا کرتا تھا آج اُس کی کیا حالت ہے؟ پس خدائے تعالیٰ سے ڈرو اور ہمیشہ دعا کرتے رہو کہ وہ محض اپنے فضل سے تمہارے دلوں کو حق پر قائم رکھے اور لغزش سے بچاوے۔اپنی استقامتوں پر بھروسہ مت کرو کیا استقامت میں فاروق رضی اللہ عنہ سے کوئی بڑھ کر ہوگا جن کو ایک ساعت کے لئے ابتلا پیش آ گیا تھا اور اگر خدائے تعالیٰ کا ہاتھ اُن کو نہ تھا متا تو خدا جانے کیا حالت ہو جاتی۔مجھے اگر چہ میر عباس علی صاحب کی لغزش سے رنج بہت ہوا لیکن پھر میں دیکھتا ہوں کہ جبکہ میں حضرت مسیح علیہ السلام کے نمونہ پر آیا ہوں تو یہ بھی ضرور تھا کہ میرے بعض مدعیان اخلاص کے واقعات میں بھی وہ نمونہ ظاہر ہوتا۔یہ بات ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بعض خاص دوست جو اُن کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے۔جن کی تعریف میں وحی الہی بھی نازل ہو گئی تھی آخر حضرت مسیح سے منحرف ہو گئے تھے۔یہودا اسکر یوطی کیسا گہرا دوست حضرت مسیح کا تھا جو اکثر ایک ہی پیالہ میں حضرت مسیح کے ساتھ کھا تا اور بڑے پیار کا دم مارتا تھا جس کو جلد سوم