حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 225
حیات احمد ۲۲۵ جلد سوم حضرت اقدس ان آیتوں کو جو ہم نے پیش کی ہیں ان کے اور معنے ہیں۔اور جو آیتیں تم نے پیش کی ہیں ان کے اور معنے ہیں۔بات یہ ہے کہ یہ اور باب ہے اور وہ اور باب ہے۔ذراغور کریں اور سوچیں۔مولوی صاحب دو چار منٹ سوچ کر کہنے لگے معاف فرمائیے۔میری غلطی تھی۔جو آپ نے فرمایا وہ صحیح ہے۔قرآن مجید آپ کے ساتھ ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا قرآن مجید ہمارے ساتھ ہے تو آپ کس کے ساتھ ہیں۔مولوی صاحب رو پڑے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور ہچکی بندھ گئی اور عرض کیا کہ یہ خطا کار اور گنہگار بھی حضور کے ساتھ ہے۔اس کے بعد مولوی صاحب روتے رہے اور سامنے مؤدب بیٹھے رہے۔بیرون در اور باہر مکان کے جو کئی ہزار آدمی کھڑے تھے اور اپنی اپنی رائے ظاہر کر رہے تھے اور اس انتظار میں خوش ہو رہے تھے اور تالیاں بجا کر کہتے تھے کہ آج مرزا قابو میں آیا۔آج مرزا تو بہ کر کے رہے گا۔مولوی صاحب مرزا کو تو بہ کرا کے چھوڑیں گے ان کو کیا خبر تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ والا معاملہ ہوگا۔مولوی صاحب خود ہی تو بہ کریں گے۔بعض کی رائے تھی کہ خاموش رہو خدا ہی جانے کیا پیش آوے۔جب بہت دیر ہوگئی تو لوگوں نے فریاد کرنی شروع کی اور لگے آواز پر آواز دینے کی جناب مولوی صاحب باہر تشریف لائیے۔مولوی صاحب نے ان کی بات کا جواب نہ دیا۔جب زیادہ دیر ہوئی وہ بہت چلائے مولوی صاحب نے کہلا بھیجا کہ تم جاؤ میں نے حق دیکھ لیا اور حق پا لیا۔اب میرا تم سے کچھ کام نہیں ہے۔تم اگر چاہو۔اور اپنا ایمان سلامت رکھنا چاہتے ہو تو آ جاؤ اور تائب ہو کر اللہ تعالیٰ سے سرخرو ہو جاؤ۔اور اس امام کو مان لو۔اس امام صادق سے کس طرح الگ ہوسکتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کا موعود اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کا موعود ہے جس کو