حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 224 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 224

حیات احمد ۲۲۴ جلد سوم بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ مرزا رو پیر والا ہے۔اور مولوی لالچی طامع ہوتے ہیں۔مرزا نے کچھ لالچ دے دیا ہو گا۔بعض مولوی صاحب عالم فاضل ہیں مرزا کو سمجھانے اور نصیحت کرنے گئے ہیں۔مرزا کو سمجھا کے اور تو بہ کرا کے آویں گے۔اور دوسرے یہ بات ٹھیک ہے ایسا موقعہ ملاقات اور نصیحت کا بار بار نہیں ملتا۔اب یہ موقعہ مل گیا مرزا صاحب کو تو یہ کرا کے ہی چھوڑیں گے۔اور عام لوگ۔مولوی پھنس گیا اور پھنس گیا خواہ طمع میں خواہ علم میں خواہ اور کسی صورت سے مرزا بڑا چالاک اور علم والا ہے وہ مولویوں کے گنڈوں پر نہیں ہے۔مولوی ایک زبان ہو کر مولوی صاحب مرزا کی خبر لینے کو گئے ہیں۔دیکھنا تو سہی مرزا کی کیسی گت بنتی ہے۔مولوی مرزا سے علم میں کم نہیں ہے۔طامع نہیں ہے۔صاحب روزگار ہے۔خدا اور رسول کو پہچانتا ہے، فاضل ہے۔مرزا کو نیچا دکھا کے آئے گا۔اور سوائے ان کے جو کچھ کسی کے منہ میں آتا تھا وہ کہتا تھا۔اور ادھر خدا کی قدرت کا تماشہ اور ارادہ الہی میں کیا تھا۔جب مولوی غلام نبی صاحب اندر مکان کے گئے تو چپ چاپ بیٹھے تھے۔مولوی ! حضرت آپ نے وفات مسیح کا مسئلہ کہاں سے لیا ہے؟ حضرت اقدس قرآن شریف سے اور حدیث شریف سے اور علماء ربانیین کے اقوال سے۔مولوی صاحب۔کوئی آیت قرآن مجید میں وفات مسیح کے بارے میں ہو تو بتلائیے۔حضرت اقدس لو یہ قرآن شریف رکھا ہے۔آپ نے قرآن شریف دو جگہ سے کھول کر اور نشان کاغذ رکھ کر مولوی صاحب کے ہاتھ میں دیا۔ایک مقام تو سورہ آل عمران یعنی تیسرے پارہ کا تیسرا پاؤ اور دوسرا مقام سورہ مائدہ کا آخری رکوع جو ساتویں پارہ میں ہے۔اوّل میں آیت يُعِيْنَى إِلى مُتَوَفِّيكَ اور دوسرے میں فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ تھا۔مولوی صاحب دونوں مقاموں کی دونوں آیتیں دیکھ کر حیران اور ششدر رہ گئے اور کہنے لگے فَيُوَفِّيْهِمْ أَجُورَهُمْ کے بھی تو قرآن شریف میں ہے اس کے کیا معنے ہوں گے؟ ال عمران: ۵۶ ل المآئدة: ۱۱۸ ۳ ال عمران: ۵۸ و النساء:۱۷۴