حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 88 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 88

حیات احمد ۸۸ جلد سوم ہو سکا چنا نچہ حضرت حکیم الامت نے اوّل سے جس قدر حصہ طبع ہو چکا تھا حضرت سے طلب فرمایا مگر آپ نے قانون مطابع کی رعایت رکھتے ہوئے ۲۰ دسمبر ۱۸۹۰ء کو حضرت حکیم الامت کے خط کے جواب میں لکھا کہ چونکہ کتاب فتح اسلام کسی قدر بڑھ گئی ہے اور مطبع امرتسر میں چھپ رہی ہے اس لئے جب تک کل چھپ نہ جائے۔روانہ نہیں ہو سکتی۔امید کہ میں روز تک چھپ کر آ جائے گی“۔غرض یہ کتاب ۱۸۹۱ء کی پہلی سہ ماہی میں شائع ہوگئی۔۱۸۹۰ء کے برکات وثمرات مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۹۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۹۰ء کے برکات وثمرات میں ایک عظیم الشان برکت حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ کا سلسلہ بیعت میں شریک ہونا ہے۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کو سلسلہ میں ایک خاص امتیاز اور مقام حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کو اس عزت و شرف سے نوازا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صاحبزادی نواب مبارکہ بیگم صاحبہ آپ کے نکاح میں آئیں نواب مبار کہ بیگم اللہ تعالیٰ کی وحی میں آپ کا نام ہے اور بھی الہام آپ کے متعلق ہیں اس شرف وسعادت کے صرف حضرت نواب صاحب مورد ٹھہرے اور نہ صرف یہ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دوسری صاحبزادی جن کے متعلق دُخت کرام کا الہام ہوا حضرت نواب صاحب کی مرحومہ اہلیہ کے صاحبزادہ میاں عبداللہ خاں صاحب کے حبالہء نکاح میں آئیں۔چونکہ حضرت نواب صاحب کے سوانح حیات ایک عزیز مکرم صلاح الدین صاحب ایم۔اے۔نے شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے میں اس موقع پر کچھ زیادہ لکھنا ضروری نہیں سمجھتا حضرت نواب صاحب نے ۱۹ نومبر ۱۸۹۰ء کو بیعت کر لی۔