حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 87 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 87

حیات احمد AL جلد سوم قبض کی نظر سے دیکھیں۔اور خواہ میری نسبت نیک گمان رکھیں اور یا بدظنی کو اپنے دلوں میں جگہ دیں وَ أُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ۔فتح اسلام کی تالیف کی تاریخ (فتح اسلام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳ ) اس رسالہ کی تصنیف ۱۸۹۰ء کے آخر میں شروع ہوئی۔اگر چہ اس کی تحریک تو آپ کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوئی مگر یہ عجیب بات ہے کہ اس اشتہار کے لکھنے کی تحریک حضرت حکیم فضل الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے کی چنانچہ حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں۔از الجملہ اخویم حکیم فضل دین بھیروی ہیں۔حکیم صاحب ممدوح جس قدر مجھے سے محبت اور اخلاص اور حسن ارادت اور اندرونی تعلق رکھتے ہیں میں اس کے بیان کرنے سے قاصر ہوں۔وہ میرے بچے خیر خواہ اور دلی ہمدرد اور حقیقت شناس مرد ہیں۔بعد اس کے جو خدا تعالیٰ نے اس اشتہار کے لکھنے کے لئے مجھے توجہ دی اور اپنے الہامات خاصہ سے امیدیں دلائیں میں نے کئی لوگوں سے اس اشتہار کے لکھنے کا تذکرہ کیا کوئی مجھ سے متفق الرائے نہیں ہوا۔لیکن میرے یہ عزیز بھائی بغیر اس کے کہ میں ان سے ذکر کرتا خود مجھے اس اشتہار کو لکھنے کے لئے محرک ہوئے اور اس کے اخراجات کے واسطے اپنی طرف سے مار سوروپیہ دیا۔میں ان کی فراست ایمانی سے متعجب ہوں کہ اُن کے ارادہ کو خدا تعالیٰ کے ارادہ سے توارد ہو گیا۔وہ ہمیشہ در پردہ خدمت کرتے رہتے ہیں۔اور کئی سو روپیہ پوشیدہ طور پر محض ابْتِغَاء لِمَرْضَاتِ اللہ اس راہ میں دے چکے ہیں۔خدا تعالیٰ جزاء خیر بخشے۔“ فتح اسلام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۹،۳۸) غرض فتح اسلام ۱۸۹۰ء کے آخر میں لکھا جانے لگا۔مگر ۱۸۹۱ء کے آغاز سے پہلے شائع نہ