حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 84
حیات احمد ۸۴ جلد سوم حضرت اقدس کا یہ اشتہار ریاض ہند امرتسر اور پنجاب گزٹ سیالکوٹ میں شائع ہوا۔میں اس وقت لاہور کے موڈل سکول میں فورتھ ہائی کا طالب علم تھا۔حضرت صاحب کی بیعت تو میں ۱۸۸۹ء میں کر چکا تھا مگر وہ ایک رسمی اور تقلیدی بیعت تھی گوحسن عقیدت سے ہی تھی مگر اس کے بعد لا ہور آ جانے کی وجہ سے میرا چنداں تعلق نہ رہا ہاں بدستور حسن ظن اور اعتقاد حضرت کی نسبت قائم تھا اور میں پیسہ اخبار لاہور کے لئے (جس کا میں ۱۸۸۷ء سے خریدار تھا) خبروں اور بعض کہانیوں کا ترجمہ فارغ وقت میں کیا کرتا تھا اور پیسہ اخبار کے دفتر میں ایک مولوی سید احمد صاحب لکھنوی اور منشی الہ دتا صاحب سیالکوئی بھی کام کرتے تھے۔مارچ ۱۸۹۱ء کے پہلے یا دوسرے ہفتہ کا واقعہ ہے کہ پنجاب گزٹ سیالکوٹ میں یہ خط اس عنوان سے شائع ہوا۔آنے والا مسیح آ گیا ہے جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہوں دیکھے اور جس کے کان سننے کے ہوں سنے“۔منشی محبوب عالم ایڈیٹر پیسہ اخبار جانتے تھے کہ میں مذہبی آدمی ہوں اور بار ہا انہوں نے انارکلی میں عیسائیوں اور آریوں کے خلاف لیکچر دیتے اور مباحثے کرتے ہوئے دیکھا۔انہوں نے مجھے اور مولوی سید احمد اور منشی الہ دتا کو بلایا اور کہا کہ ایک نئی خبر سناتا ہوں۔اس پر انہوں نے یہ مضمون سنایا۔میرا علم معرفت نہایت ہی کمزور تھی میں نے مضمون سن کر اظہار افسوس کیا اور جو نادان صوفیوں سے سنا ہوا تھا کہ سلوک کے راستہ میں بعض وقت کوئی ٹھوکر لگ جاتی ہے اور ایسے بزرگ کچھ دعوی کر دیتے ہیں میں نے بھی یہی کہا کہ حضرت کو نعوذ باللہ ٹھوکر لگی ہے اس سے زیادہ میں نے کچھ نہ کہا اور نہ حضرت کے متعلق کوئی شبہ پیدا ہوا۔بات آئی گئی۔کچھ دنوں کے بعد مجھے رسالہ فتح اسلام مل گیا میں نے اسے تین چار مرتبہ پڑھا اور مجھے شرح صدر ہو گیا۔میں نے رسالہ جیب میں رکھا اور دفتر جا کر ان ہرسہ کی موجودگی میں آنے والا سیح آگیا۔(عرفانی) ۱ ۲۶ / مارچ ۱۸۹۱ء