حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 85 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 85

حیات احمد ۸۵ جلد سوم ان کو گواہ کر کے کہا کہ میرا خیال غلط تھا حضرت مرزا صاحب واقعی مسیح موعود ہیں اور حضرت مسیح ابن مریم فوت ہو گئے اور رسالہ فتح اسلام سے بعض پیرا گراف سنائے اس پر منشی محبوب عالم صاحب نے کہا تم بڑے متلون مزاج ہو چند روز پیشتر وہ خیال ظاہر کیا اور آج ان کے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہو۔میں نے کہا آپ نے تکون کی حقیقت نہیں کبھی اپنی غلطی سے رجوع کر کے صداقت کو قبول کرنا تو اعلیٰ درجہ کی خوبی ہے۔اس پر وہ بحث ختم ہوگئی اور میں نے حضرت کو اپنا یہ سارا قصہ لکھ دیا۔اللہ تعالیٰ نے منشی الہ دتا صاحب کو تو سلسلہ میں داخل کر دیا۔سید احمد ناول نویس تھے ان کو کچھ توجہ ہی نہ ہوئی ، اور منشی محبوب عالم صاحب مخالفت بھی کرتے رہے اور اس کے بعد خاکسار عرفانی کبیر کو تو علی الاعلان اس پیغام کو لا ہور کے بازاروں میں پہنچانے کی سعادت نصیب ہوئی۔اور حضرت اقدس کے سفر لا ہور کے ایام میں مخالفین سے ماریں بھی کھا ئیں۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ حضرت مولوی سرور شاہ صاحب ان ایام میں مدرسہ نعمانیہ لاہور کے ایک اعلیٰ کلاس کے طالب علم تھے اور میرے لیکچروں میں جو اس موضوع پر انارکلی لا ہور میں ہوتے کبھی کبھی آتے بھی تھے ان حالات کے جاننے والوں میں سے مکرم حکیم مرہم عیسی موجود ہیں (اللہ تعالیٰ ان کو اور بھی عمر دے۔میں نے ایک رؤیا میں بھی ایسا دیکھا تھا۔وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب) فتح اسلام کی اشاعت اس دعوئی کے اعلان کے ساتھ آپ نے اپنے دعوی مسیحیت کے متعلق ایک مختصر رسالہ فتح اسلام کے نام سے لکھا اور اس کے ٹائیٹل پیچ پر یہ الہامی رباعی درج کی۔