حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 82 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 82

حیات احمد ۸۲ جلد سوم اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔“ الهام جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ کے متعلق فرمایا کہ اس قدر تواتر سے ہوا ہے کہ اس کا شمار اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے چنانچہ میر عباس علی صاحب کو ۱۲ جون ۱۸۸۳ء کو جو مکتوب لکھا اس میں آپ نے اس حقیقت کو اس طرح پر ظاہر فرمایا۔اور یہ آیت که وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ بار بارالہام ہوئی اور اس قدم متواتر ہوئی کہ جس کا شمار خدا ہی کو معلوم ہے۔اور اس قدر زور سے ہوئی کہ میخ فولادی کی طرح دل کے اندر داخل ہو گئی۔اس سے یقیناً معلوم ہوا کہ خداوند کریم ان سب دوستوں کو جو اس عاجز کے طریق پر قدم ماریں بہت سی برکتیں دے گا۔اور ان کو دوسرے طریقوں کے لوگوں پر غلبہ بخشے گا اور یہ غلبہ قیامت تک رہے گا اور اس عاجز کے بعد کوئی مقبول ایسا آنے والا نہیں کہ جو اس طریق کے مخالف قدم مارے اور جو مخالف قدم مارے گا اس کو خدا تباہ کرے گا۔اور اُس کے سلسلہ کو پائیداری نہیں ہوگی۔یہ خدا کی طرف سے وعدہ ہے جو ہرگز تخلف نہیں کرے گا۔اور کفر کے لفظ سے اس جگہ شرعی کفر مراد نہیں۔بلکہ صرف انکار سے مراد ہے۔“ مکتوبات احمد یہ جلد ا صفحه ۲۴۔مکتوبات احمد جلد اصفحه ۵۳۴ مطبوعه ۲۰۰۸ء) اعلان دعوی مسیحیت غرض ایک نیا سلسلہ اس قسم کے الہامات اور مکاشفات کا جاری تھا جن سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ آپ آنے والے مسیح موعود ہیں مگر آپ نے کبھی اس کا خیال بھی نہیں کیا اور خلاف ادب سمجھا کہ اپنی طرف سے کوئی توجیہ اپنے حق میں پیدا کی جاوے۔کہ آپ اسی عقیدہ پر قائم تھے کہ مسیح ابن مریم کا نزول حسب بشارات ہوگا جس طرح پر آپ مجد داور مامور ہو کر براہین لکھ رہے تھے اور صداقت اسلام کے لئے اسلام کے دشمنوں اور مختلف مذاہب کے لیڈروں کو دعوت مقابلہ دے رہے تھے لیکن لوگ جب آپ سے بیعت پر اصرار کرتے تو آپ انکار کرتے اس طرح پر