حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 76 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 76

حیات احمد جلد سوم مامور ہو کر بغرض اصلاح و تجدید دین شروع کی تھی چوتھی جلد کے آخر میں آپ نے ” ہم اور ہماری کتاب“ کے عنوان سے ایک اعلان شائع کیا جس میں آپ نے اس ناگہانی ربانی بجلی کا ذکر کیا جو آپ پر ہوئی چنانچہ فرماتے ہیں:- ابتدا میں جب یہ کتاب تالیف کی گئی تھی اُس وقت اس کی کوئی اور صورت تھی پھر بعد اس کے قدرت الہیہ کی ناگہانی تجلی نے اس احقر عباد کو موسیٰ کی طرح ایک ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی بقیہ حاشیہ۔تمام پاک اور کامل صفتوں پر دلی یقین سے ایمان لاتا ہے وہ فقط اسلام ہے جس میں سچائی کی برکتیں آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں اور صداقت کی روشنی دن کی طرح ظاہر ہو رہی ہے اور دوسرے تمام مذاہب ایسے بدیہی البطلان ہیں کہ نہ عقلی تحقیقات سے اُن کے اصول صحیح اور درست ثابت ہوتے ہیں اور نہ ان پر چلنے سے ایک ذرہ روحانی برکت و قبولیت الہی مل سکتی ہے بلکہ ان کی پابندی سے انسان نہایت درجہ کا کور باطن اور سیاہ دل ہو جاتا ہے جس کی شقاوت پر اسی جہاں میں نشانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔اس کتاب میں دین اسلام کی سچائی کو دو طرح پر ثابت کیا گیا ہے (۱) اوّل تین سو مضبوط اور قوی دلائل عقلیہ سے جن کی شان و شوکت وقد رو منزلت اس سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی مخالف اسلام ان دلائل کو توڑ دے تو اس کو دس ہزار روپیہ دینے کے لئے اشتہار دیا ہوا ہے۔اگر کوئی چاہے تو اپنی تسلی کے لئے عدالت میں رجسٹری بھی کرا لے (۲) دوم ان آسمانی نشانوں سے کہ جو بچے دین کی کامل سچائی ثابت ہونے کے لئے از بس ضروری ہیں اس امر دوئم میں مؤلف نے اس غرض سے کہ سچائی دین اسلام کی آفتاب کی طرح روشن ہو جائے تین قسم کے نشان ثابت کر کے دکھائے ہیں کہ (۱) اول جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مخالفین نے خود حضرت ممدوح کے ہاتھ سے اور آنجناب کی دعا اور توجہ سے اور برکت سے ظاہر ہوتے دیکھے جن کو مؤلف یعنی اس خاکسار نے تاریخی طور پر ایک اعلیٰ درجہ کے ثبوت سے مخصوص و ممتاز کر کے درج کتاب کیا ہے دوم۔وہ نشان جو خود قرآن شریف کی ذات بابرکات میں دائگی اور ابدی اور بے مثل طور پر پائے جاتے ہیں۔جن کو راقم نے بیان شافی اور کافی سے ہر ایک خاص و عام پر کھول دیا ہے اور کسی نوع کا عذر کسی کے لئے باقی نہیں رکھا سوم۔وہ نشان جو کہ کتاب اللہ کی پیروی اور متابعت رسول برحق سے کسی شخص تابع کو بطور وراثت ملتے ہیں جن کے اثبات میں اس