حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 67
حیات احمد ۶۷ جلد سوم ایک یتیم خانہ کھولا گیا تھا اُس کا انتظام بھی ان کے ہاتھ میں تھاوہ شیخ بٹالوی کے اختلاف کے ساتھ مخالف ہو گئے۔دوسرے دوست یہی بابو محکم الدین صاحب تھے وہ بڑے ہنس مکھ اور وجیہ شخص تھے پٹی ضلع لاہور کے رہنے والے تھے ان کی زندگی عجائبات کا مجموعہ ہے۔عبدالعزیز صاحب تو صرف اس وجہ سے کہ وہ جنرل سیکرٹری تھے گڑھا آئے مگر اُن کے لانے کا اصل موجب بابو محکم الدین تھے۔حضرت حکیم الامت نے ایک مرتبہ اُن کو فرمایا تھا کہ میں اشراقین کے طریق پر امرتسر ہی میں تمہیں تعلیم دے سکتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی مجلس میں ایک مرتبہ ظہر کی نماز کے بعد جب کہ حضرت تشریف فرما تھے آپ نے بابو محکم دین صاحب سے پوچھا آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں۔کوئی ضرورت ہے تو مجھے کہنا تکلف سے کام نہ لینا، کھانے وغیرہ کے متعلق جو خواہش ہو مجھے کہنا۔اس پر بابو محکم الدین صاحب نے عرض کیا حضور لنگر خانہ میں ہر قسم کا آرام ہے کوئی تکلیف نہیں۔البتہ ایک عرض ہے کہ کچھ سینہ کا گوشت ملنا چاہئے۔“ بعض لوگ کچھ حیران سے ہوئے اور حضرت اس کے استعارہ کو سمجھ گئے میں جو ان کے حالات سے واقف تھا میں بھی سمجھا۔حضرت اقدس نے مسکرا کر فرمایا ہاں وہ تو ملتا ہی رہتا ہے۔بعد میں بعض لوگوں نے کہا کہ یہ آپ نے کیا کہہ دیا تو انہوں نے کہا میں نے جن سے مانگا تھا وہ سمجھ گئے اور مجھے مل گیا۔اس نے ان دوستوں سے کہا یہ استعاروں میں باتیں کرتے ہیں مطلب یہ تھا کہ وہ علم جوسینہ کو قوت دے اور معرفت کا ذریعہ ہو ملنا چاہئے۔ان کے اس قسم کے بہت سے لطائف ہیں میں نے ۱۸۹۶ء میں اُن کے ساتھ سرکاری قانون کے ماتحت ایک سپیشل افسر کا کام بھی کیا تھا انتظام محرم کے سلسلہ میں۔اب صرف ایک واقعہ ان کی معرفت کا لکھتا ہوں خلافت ثانیہ کے پہلے دن کی صبح کو وہ تہجد کی نماز میں اٹھے اور ایک دوتارہ لے کر قریباً ہر جگہ جہاں جماعت کے لوگ آئے ہوئے تھے گئے دوتارہ بجاتے تھے اور کہتے جاتے تھے۔نطفہ ہے علقہ ہے۔