حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 56 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 56

حیات احمد ۵۶ وعظ فرمائیے۔اس کا اُنہوں نے وعدہ بھی کیا۔مگر صبح کو رقعہ آیا کہ میں بذریعہ الہام وعظ کہنے سے منع کیا گیا۔میرا خیال ہے کہ بہ سبب عجز بیانی وخوف امتحانی انکار کر دیا۔اقول مولوی صاحب کا یہ خیال بجز بدگمانی کے جو سخت ممنوعات شرعیہ میں سے ہے اور نیک سرشت آدمیوں کا کام نہیں اور کوئی اصلیت اور حقیقت نہیں رکھتا اگر میں صرف علی گڑھ میں آکر خاص اسی موقعہ پر الہام کا مدعی بنتا تو بیشک بدظنی کرنے کیلئے ایک وجہ ہو سکتی تھی اور بیشک خیال کیا جا سکتا تھا کہ میں مولوی صاحب کے علمی مرتبہ کی علوشان دیکھ کر اور اُن کے کمالات کی عظمت اور ہیبت سے متاثر ہو کر گبھرا گیا اور عذر پیش کرنے اور ایک حیلہ تراشنے سے اپنا پیچھا چھوڑا یا۔لیکن میں تو اس دعویٰ الہام کو علی گڑھ کے سفر سے چھ سات سال پہلے تمام ملک میں شائع کر چکا ہوں۔اور براہین احمدیہ کے اکثر مقامات اُس سے پُر ہیں۔اگر میں تقریر کرنے سے عاجز ہوتا تو وہ کتابیں جو میری طرف سے تقریری طور پر عین مجلس میں اور ہزار ہا موافقین اور مخالفین کے جلسہ میں قلمبند ہو کر شائع ہوئی ہیں جیسے سرمہ چشم آریہ وہ کیونکر میری ایسی ضیعف قوت ناطقہ سے نکل سکتی تھیں۔اور کیونکر یہ میرا عالیشان سلسلہ زبانی تقریروں کا جس میں ہزاروں مختلف طبع اور استعداد آدمیوں کے ساتھ ہمیشہ مغز خوری کرنی پڑتی ہے آج تک چل سکتا۔افسوس ہزار افسوس اس زمانہ کے اکثر مولویوں پر کہ آتشِ حسد اندر ہی اندر ان کو کھا گئی ہے لوگوں کو تو ایمانی خصائل اور برادرانہ برتاؤ اور باہم نیک ظنی کا ہمیشہ سبق دیتے ہیں اور منبروں پر چڑھ کر اس بارے میں کلامِ الہی کی آیات سناتے ہیں مگر آپ ان حکموں کو چھوتے بھی نہیں۔اے حضرت ! خدا تعالیٰ آپ کی آنکھیں کھولے۔کیا یہ ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے کسی ملہم بندہ کو کسی مصلحت کی وجہ سے ایک کام کرنے سے روک دیوے اور شائد اس روک کا دوسرا سبب یہ بھی ہوگا کہ تا آپ کی اندرونی خاصیتوں کا امتحان ہو جاوے۔اور جولوگ آپ کے ہمرنگ اور آپ جلد سوم