حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 54 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 54

حیات احمد ۵۴ جلد سوم اور اسے چھاپ کر شائع کیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود اس کے واقعات اور اعتراضات کا جواب فتح اسلام میں دیا ہے جو حقائق کا مظہر ہے اسے میں یہاں پورا درج کرتا ہوں اس لئے کہ اس میں حضرت نے دعوت مباہلہ دی ہے اور اس کے بعد مولوی اسماعیل اس مباہلہ کے نتیجہ میں ہلاک ہوکر سلسلہ کی صداقت کا ایک نشان ٹھہرا۔آپ فرماتے ہیں کہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اپنا بیان ایک دفعہ مجھے علی گڑھ میں جانے کا اتفاق ہوا اور مرض ضعف دماغ کی وجہ سے جس کا قادیان میں بھی کچھ مدت پہلے دورہ ہو چکا تھا میں اس لائق نہیں تھا کہ زیادہ گفتگو یا اور کوئی دماغی محنت کا کام کر سکتا اور ابھی میری یہی حالت ہے کہ میں زیادہ بات کرنے یا حد سے زیادہ فکر اور خوض کی طاقت نہیں رکھتا اس حالت میں علی گڑھ کے ایک مولوی صاحب محمد اسماعیل نام مجھ سے ملے اور انہوں نے نہایت انکساری سے وعظ کے لئے درخواست کی اور کہا کہ لوگ مدت سے آپ کے شایق ہیں بہتر ہے کہ سب لوگ ایک مکان میں جمع ہوں اور آپ کچھ وعظ فرما دیں چونکہ مجھے ہمیشہ سے یہی عشق اور یہی دلی خواہش ہے کہ حق باتوں کو لوگوں پر ظاہر کروں اس لئے میں نے اس درخواست کو بشوق دل قبول کیا اور چاہا کہ لوگوں کے عام مجمع میں اسلام کی حقیقت بیان کروں کہ اسلام کیا چیز ہے اور اب لوگ اُس کو کیا سمجھ رہے ہیں اور مولوی صاحب کو کہا بھی گیا کہ انشاء اللہ اسلام کی حقیقت بیان کی جائے گی لیکن بعد اس کے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے روکا گیا مجھے یقین ہے کہ چونکہ میری صحت کی حالت اچھی نہیں تھی اس لئے خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ زیادہ مغز خواری کر کے کسی جسمانی بلا میں پڑوں اس لئے اس نے وعظ کرنے سے مجھے روک دیا۔ایک دفعہ اس سے پہلے بھی ایسا ہی اتفاق ہوا تھا کہ میری ضعف کی حالت میں ایک نبی