حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 46
حیات احمد ۴۶ جلد سوم خوشنویس کو اور چوتھے نمبر پر مجھ کو۔اور پھر ایک یا دو اور لوگوں کے نام لے کر اندر بلایا۔پھر اس کے بعد شیخ حامد علی کو کہہ دیا کہ خود ایک ایک آدمی کو اندرداخل کرتے جاؤ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اوائل میں حضور ایک ایک کی الگ الگ بیعت لیتے تھے لیکن پھر بعد میں اکٹھی لینے لگ گئے۔اور میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا کہ پہلے دن جب آپ نے بیعت لی تو وہ تاریخ ۲۰ ؍رجب ۱۳۰۶ھ مطابق ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء تھی۔اور اس وقت بیعت کے الفاظ یہ تھے۔”آج میں احمد کے ہاتھ پر اپنے ان تمام گناہوں اور خراب عادتوں سے تو بہ کرتا ہوں جن میں میں مبتلا تھا اور سچے دل اور پکے ارادہ سے عہد کرتا ہوں کہ جہاں تک میری طاقت اور سمجھ ہے اپنی عمر کے آخری دن تک تمام گناہوں سے بچتا رہوں گا اور دین کو دنیا کے آراموں اور بقیہ حاشیہ۔اب کی دفعہ جو گیہوں حضرت صاحب کے واسطے لاؤ تو اُس میں بہت سے جو ملے ہوئے ہوں۔چنانچہ وہ گیہوں لائے جس میں بہت ہی جو ملے ہوئے تھے۔خوش ہو کر فرمانے لگے کہ یہ گیہوں کون لایا ہے اس شخص نے سفارش کے طور پر کہا کہ ولیداد خان لائے ہیں فرمانے لگے کہ اب اُن کو عقل آ گئی ہے۔لہذا آئندہ وہی لایا کریں۔ایک دفعہ مذاہب کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا: - اَشْهَرُ الْمَذْهَبِ أَبِي حَنِيْفَةَ وَأَوْسَعُ الْمَذَاهِبِ مَذْهَبُ مَالِكٍ وَاقْوَلُ الْمَذَاهِبِ مَذْهَبُ الشَّافِعِيْ وَأَحْوَطُ الْمَذَاهِبِ مَذْهَبُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَل۔آپ کو میں نے نہایت ہی وسیع الخلق پایا۔اور کم کلامی میں تو مجھ کو تجب ہی آتا تھا۔وہاں آپ کے مکان میں ہر روز ختم ہوتا تھا۔اور بعض مریدین انیس ہزار دفعہ لا الہ الا اللہ ہر روز پڑھتے تھے۔ایک شخص نے شکایت کی کہ نورالدین اتنی محنت نہیں کرتا۔نیز امام کے پیچھے الحمد پڑھتا ہے اور رفع یدین کا قائل ہے آپ نے فرمایا کہ آپ ایک ایسی چُھری لائیں جو رفع یدین اور فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ کو بخاری میں سے کاٹ سکے اور انیس ہزار بار لا اله الا اللہ پڑنے کی کوئی سند ہے تو وہ نورالدین کو دکھلائی جاوے۔اگر وہ صحیح ہوگی تو وہ مان لے گا۔اس پر ہمارے سب پیر بھائی بالکل خاموش ہو گئے ،، مرقات الیقین فی حیاة نورالدین میں یہ واقعہ زیر عنوان مدینہ طیبہ دیا گیا۔