حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 41
حیات احمد ام جلد سوم میں ۸۰۰ روپے صرفہ سے ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد کی تعمیر پایہ تکمیل کو پہنچ گئی اور یہ فخر لودھیانہ کی جملہ مساجد میں سے صرف دارلبیعت کی مسجد کو حاصل ہے جو صحیح قبلہ رخ واقع ہے۔بیعت کا پہلا دن جیسا کہ اوپر بیان ہوا بیعت کے لئے اور ہانہ کا مقام تجویز کیا گیا تھا اور کچھ روز پہلے آپ لود ہانہ تشریف لے آئے مگر ہوشیار پور سے شیخ مہر علی صاحب نے آپ کو ایک شادی میں شمولیت کی دعوت دی ان کے خاندان سے آپ کے خاندانی تعلقات کے علاوہ ذاتی تعلق بھی تھا جو ایک مجاہدہ کے لئے آپ نے ان کے مکان کو پسند کیا اور وہاں قیام کیا تھا اس لئے عملاً قبول دعوت کی سنت پر عمل فرمایا اور ان کی خوشی میں شریک ہو کر ان کو خوش کرنا بھی پسند کیا۔چنانچہ آپ ہوشیار پور جا کر تاریخ اور یوم مقررہ بیعت سے پہلے لودہا نہ پہنچ گئے اور آخر وہ وقت آ گیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلسلہ احمدیہ کی بنیاد کے لئے مقرر ہوا تھا۔اس موقعہ پر جموں ،سیالکوٹ جالندھر اور لودہانہ کے قریب وجوار اور ریاست پٹیالہ و کپورتھلہ سے اکثر احباب آچکے تھے۔رجسٹر بیعت بیعت کنندگان کے اسماء کے اندراج کیلئے ایک رجسٹر تیار کیا گیا۔اس پہلے دن یہ رجسٹر تیار نہیں تھا بلکہ آپ نے حکم دیا تھا کہ ہر شخص اپنا نام پتہ وغیرہ لکھ کر دیدے اور چھوٹے چھوٹے پرزوں پر ہر شخص لکھ کر دے دیتا تھا اور انہیں ایام میں کچھ دنوں کے اندر وہ رجسٹر تیار کیا گیا جس پر لکھا گیا۔بیعت تو بہ برائے حصول تقویٰ وطہارتے اس رجسٹر کی تحریر مختلف ہاتھوں ا یہ رجسٹر جیسا کہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے حضرت میر محمد اسحاق رضی اللہ عنہ کے پاس تھا جو انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کاغذات میں ملا اور خود مجھے بھی حضرت میر محمد اسحاق صاحب