حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 40 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 40

حیات احمد ۴۰ جلد سوم جماعت کے سپرد کر دی، جس کو اللہ تعالیٰ نے یہ شرف بخشا کہ اس نے ۱۹۱۶ء میں اس کی ہیئت کذائی میں تبدیلی کر کے جانب شمال ایک لمبا اور ہوا دار پختہ کمرہ تعمیر کرا دیا۔جس کی شمالی دیوار کی بیرونی سطح پر دار البیعت کے نام اور تاریخ بیعت ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کا کتبہ ثبت کیا گیا۔اور صحن میں پختہ اینٹوں کا کوئی بالشت بھر اونچا ایک چبوترہ اور ایک محراب بنوا کر نماز کیلئے مخصوص کر لیا۔مگر جنوبی طرف کی دو پکی کوٹھڑیاں بدستور اپنی مفلسی کی داستان کو دہرا رہی تھیں۔آخر ساون بھادون میں ہر سال حملہ کرنے والے بادوباراں کا مقابلہ کرتے کرتے تھک کر بیٹھ گئیں اور موج نسیم کے جھونکوں کے کھیلنے کے لئے جگہ کھلی چھوڑ دی۔ایک دفعہ میر عنایت علی صاحب لدھیانوی نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابی ہیں، بیعت اولیٰ کی معینہ جگہ کے متعلق اختلاف رائے کا اظہار کیا کہ پہلی بیعت معینہ جگہ کے بالمقابل جنوبی کوٹھری میں بروئے کار آئی تھی۔لیکن دیگر بیعت کنندگان کی رائے میں معینہ جگہ ہی اصلی جگہ تھی۔اس اختلاف کو دور کرنے کیلئے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ مئی ۱۹۳۱ء میں مالیر کوٹلہ سے واپسی پر یہاں ٹھہرے اور منشی ظفر احمد صاحب مرحوم و مغفور کو کپورتھلہ سے بلایا جو پہلے روز بیعت کر نیوالوں میں شامل تھے اور جنہیں مخاطب کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ منشی صاحب ہم اور آپ کوئی دو ہیں، منشی ظفر احمد صاحب نے بھی مہینہ جگہ کی تصدیق کی اور حضرت امیر المومنین اید اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے اس اختلاف کا فیصلہ فرما دیا۔چند سال سے دار البیعت کا مسئلہ ایک قومی ، جماعتی اور مرکزی صورت اختیار کر گیا ہے مرکز نے جماعت میں دار البیعت کی تعمیر کیلئے چندہ کی اپیل کی مگر یہ ایک کمزور اور دھیمی آواز تھی اس پر بھی مخلصین جماعت نے تھوڑا بہت چندہ دیا اور ایک ہزار روپیہ کے قریب چندہ جمع ہو گیا۔۱۹۳۹ء میں دارالخلافت کی طرف سے حضرت صاحبزادہ میاں شریف احمد صاحب سلمہ نے ایک چھوٹی سی مسجد کا نقشہ تیار کرایا، اور رمضان شریف میں مسجد کی بنیاد رکھدی گئی۔آغاز دسمبر ۱۹۳۹ء