حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 39
حیات احمد ۳۹ جلد سوم ایک کثیر التعداد جماعت عطا فرمائی تھی وہاں چشم حقیقت شناس اور عرفان کی آنکھ بھی آپ کو بخشی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ آپ کے دعوی سے پیشتر ہی ارادات کی لڑی میں پروئے جا چکے تھے اور آپ پر پروانوں کی طرح قربان ہونے والے لوگوں میں سے صوفی صاحب بھی آپ کے فدائی تھے۔آپ ہی وہ بزرگ تھے جن کی معرفت آموز اور حقیقت شناس آنکھ نے حضرت مسیح موعود کی جھکی ہوئی پلکوں کے نیم باز آنکھوں میں اللہ تعالیٰ کی تجلی کا ایک خاص نور مسیحیت ،مہدویت اور نبوت کے دعوی سے پیشتر ہی دیکھ لیا تھا۔جو زہرہ کی تابانی بن کر چمک رہا تھا۔جس پر آپ نے حضرت اقدس علیہ السلام کو مخاطب کر کے کہا تھا۔ہم مریضوں کی ہے تمہیں نگاه تم مسیحا بنو خدا کے لئے حج کو جاتے وقت آپ نے حضرت اقدس کے متعلق اپنے اہل وعیال کو وصیت کی کہ اس مرد خدا کے روم روم میں خدا بول رہا ہے۔یہ شخص جب بھی کوئی دعوی کرے فوراً قبول کر لو بلکہ حق تو یہ ہے کہ لدھیانہ سے جو خوش نصیب لوگ حضور کے دامن سے وابستہ ہوئے ان میں سے زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو منشی احمد جان صاحب مغفور کے مریدان با اخلاص تھے۔بہر کیف منشی صاحب مبرور تو آغاز بیعت سے پہلے ہی اپنے معبود حقیقی کی بارگاہِ عالی میں حاضر ہو کر واصلِ حق ہو چکے تھے ، مگر آپ کے پسماندگان کو اللہ تعالیٰ نے مرسل یزدانی سے تعلق بیعت جوڑنے کی توفیق عطا فرما کر اس سعادت سے بہرہ ور کیا۔آخر پیر افتخار احمد اور پیر منظور محمد (مصنف قاعده يسرنا القرآن ) آپ کے صاحبزادے لدھیانہ سے ہجرت کر کے دیار محبوب میں چلے گئے۔جو دورِ حاضر کے رسول کا تخت گاہ ہے۔کچھ عرصہ بعد ہر دو صاحبزادگان نے منشی صاحب مرحوم و مغفور کے ورثاء کی حیثیت سے رہائشی مکان فروخت کر دیا، اور لنگر خانہ والا حصہ صدر انجمن احمد یہ قادیان کو وصیت میں دے دیا۔اس وقت یہ مکان کچا تھا، اور اینٹ چونے اور سیمنٹ کے اتحاد سے بیگانہ تھا۔بعد میں صدر انجمن احمد یہ قادیان نے یہ جگہ لدھیانہ کی مقامی