حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 407 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 407

حیات احمد ۴۰۷ جلد سوم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ ایک بشارت اے بے خبر بخدمت قرآن کمر بہ بند زاں پیشتر که بانگ برآید فلاں نماند میری زندگی میں ۱۳۱۸ھ کا رمضان ایک خاص نعمت اور برکت کا مہینہ تھا کہ میں نے تفسیر القرآن شائع کرنے کا ارادہ کیا اور شوال ۱۳۱۸ھ میں اللہ تعالیٰ کے محض فضل و کرم سے تفسیر القرآن کا پہلا پارہ شائع کر سکا یہ فروری ۱۹۰۱ء کی بات ہے پھر اس سلسلہ میں سورۃ بقرہ ختم ہوگئی اور سورۃ آل عمران کی تفسیر لکھ رہا تھا اور وہ چھپ بھی رہی تھی کہ التوا ہو گیا۔اور وہ مطبوعہ حصہ انقلاب ۱۹۴۷ء کی نذر ہوا یا کیا مجھے علم نہیں۔پھر میں نے ۱۹۰۹ء میں اس سلسلہ کو شروع کیا اور تاریخی حیثیت سے ترجمۃ القرآن کے نام سے پارہ ۲۳ سے آخر تک اور ۱۵۔۱۶۔۱۷ پارے شائع کئے اور زمانہ دراز گزر جانے کے بعد میں نے جب قرآن کریم کے متعلق ایک سلسلہ تالیفات شروع کیا جس میں اب تک قریباً دس رسالے شائع ہو چکے ہیں۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ تو میرے دل میں پھر یہ جوش پیدا ہوا کہ پارہ ۱۸ سے ۲۳ تک جو باقی رہ گئے ہیں ان کو پورا کر دیا جاوے تا کہ اس سلسلہ میں آخری ۱۶ پارے پورے ہو جاویں اور پھر اگر توفیق ربانی رفیق راہ ہوئی تو آل عمران سے سورۃ انحل تک بھی مرتب ہو جاوے۔مگر اپنی عمر کے لحاظ سے ( جو ۸ واں سال ہے جس میں سے آٹھ ماہ گزر چکے ہیں) میں طبعی طور پر کوئی توقع نہیں کر سکتا لیکن مولیٰ کریم کے فضل و کرم کی تو کوئی حد بست نہیں اُس کا فضل شامل حال ہوتو وہ چیز جو دنیا کے دانشمندوں اور حکیموں کی نظر میں ناممکن ہو ممکن ہو جاتی ہے۔میرے خود وہم میں بھی نہیں آ سکتا تھا کہ جس کام کو میں نے ۱۹۰۱ء میں شروع کیا تھا عہد التواء کے بعد پوری نصف صدی گزر جانے پر میں اُسے پھر آغاز کر سکوں گا۔مگر اسی کریم کی ذرہ نوازی ہے کہ میں پھر توفیق پا رہا ہوں۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ