حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 408 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 408

حیات احمد ۴۰۸ جلد سوم میں یہاں تک لکھنے پایا تھا کہ یکا یک مجھے خیال آیا کہ میں نے جب تفسیر القرآن کا پہلا پارہ شائع کیا تو میرے ایک نہایت ہی واجب الاحترام اور ذی علم بھائی حضرت قاضی اکمل نے ایک ریویو لکھا وہ تو اس وقت میرے سامنے نہیں مگر میرے حافظہ میں اس کا مفہوم ہے کہ انہوں نے بعض لغزشوں کا ( بخیال خویش ) اظہار کرتے ہوئے عیب کے جملہ بگفتی ہنرش نیز بگو پر عمل کر کے میری ہمت و محبت و جسارت کی داد دی اور اس کی ضرورت پر توجہ دلائی اس طرح پر عملی صورت میں یہ پہلی تفسیر تھی جو اس سلسلہ میں شائع ہوئی۔میں اس امر کا تـحـديـث بالنعمة کے طور پر ذکر کرتا ہوں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے سب سے پہلے جماعت میں قرآن کریم سے محبت اور اس پر غور و فکر کے لئے اخبار الحکم میں قرآنِ کریم پر نوٹ لکھ کر توجہ دلائی۔پس یہ وہی جذ بہ ہے جو کسی زمانہ میں سرد نہیں ہوا۔اور اس پیرانہ سالی میں جب کہ تمام قو تیں سرد ہو جاتی ہیں وہ اب بھی پوری حرارت کے ساتھ موجود ہے اور یہ اسی کا تقاضا ہے کہ میں پھر اس راستہ پر چل رہا ہوں اور جس منزل پر رکا تھا وہاں ہی پورے ۵۱ سال بعد قدم بڑھا رہا ہوں۔ہر قدم اور ہر سانس پر اللہ کریم کے فضل و کرم کا امیدوار ہوں وہ جب تک چاہے گا توفیق دے گا اور میرا اپنا تو یہ ماٹو ہے گر نباشد به دوست ره بردن شرط عشق است در طلب مردن اُسی کے فضل و رحم کے ساتھ شروع کرتا ہوں اور اسی کے فضل و رحم پر تحمیل کی تمنا کرتا ہوں میرے مولی آغاز کرده ام تو رسانی به انتہا۔رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْم - آمين اس سلسلہ کے خریداروں کا بہت بڑا حصہ وفات پاچکا ( رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ اَجْمَعِيْنَ) اور اگر کچھ باقی ہیں تو میں ان کے موجودہ قیام سے واقف نہیں اگر چہ مجھے یقین ہے کہ وہ اب بھی اس سلسلہ میں نہ میرے لئے بلکہ اپنے ذوق علم اور عشقِ قرآن کریم کی بناء پر آگے بڑھیں گے۔میں احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ پاکستان کے رہنے والے دفتر الحکم کراچی عید گاہ روڈ نمبر (۱) کے پتہ