حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 404
حیات احمد ۴۰۴ جلد سوم بعد جتنے مکان بنے ہیں بھرتی ڈال کر بنائے گئے ہیں۔“ نیز فرماتے ہیں:۔دسمبر ۱۸۹۲ء میں پہلے جلسہ میں شریک ہوا۔ایک روز میں نے حضرت سے علیحدہ (بات) کرنی چاہی گو یہ بہت تنہائی نہ تھی۔مگر حضور کو بہت پریشان پایا۔یعنی حضرت کو علیحدگی میں اور خفیہ طور سے بات کرنی پسند نہ تھی۔آپ کی خلوت اور جلوت میں ایک ہی بات ہوتی تھی۔اسی جلسہ ۱۸۹۲ء میں حضرت بعد نماز مغرب میرے مکان پر ہی تشریف لے آتے تھے۔اور مختلف امور پر تقریر ہوتی رہتی تھی۔احباب وہاں جمع ہو جاتے تھے۔اور کھانا بھی وہاں ہی کھاتے تھے نماز عشاء تک یہ سلسلہ جاری رہتا تھا۔میں علماء اور بزرگانِ خاندان کے سامنے دو زانو بیٹھنے کا عادی تھا۔بسا اوقات گھٹنے دُکھنے لگتے۔مگر یہاں مجلس کی حالت نہایت بے تکلفانہ ہوتی تھی۔جس کو جس طرح آرام ہوتا تھا بیٹھتا تھا۔بعض پچھلی طرف لیٹ جاتے مگر سب کی دل میں عظمت ادب اور محبت ہوتی تھی۔چونکہ کوئی تکلف نہ ہوتا تھا اور کوئی تکلیف نہ ہوتی تھی۔اس لئے یہی جی چاہتا تھا کہ حضرت تقریر فرماتے رہیں۔اور ہم میں موجود رہیں۔مگر اذان عشاء سے جلسہ برخاست ہوتا تھا۔“ بعض احباب کی ہجرت (۱) مکرم ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مرحوم نے اپنی تالیف میں ۱۸۹۲ء کے واقعات کے سلسلہ میں بعض بزرگوں کی ہجرت کا ذکر کیا ہے۔۱۸۹۲ء میں کوئی صاحب ہجرت کر کے قادیان میں نہیں آئے ڈاکٹر صاحب نے ان مہاجرین میں سب سے پہلا نام مکرم مولوی محمد احسن صاحب امروہی کا لیا ہے۔انہوں نے کبھی ہجرت نہیں کی وہ ایک عرصہ تک بھوپال میں رہے اگر چہ ملازمت سے الگ ہو گئے تھے اور پھر وہاں سے امروہہ چلے گئے وہ اوقات متفرقہ میں قادیان آتے رہے لیکن بہ حیثیت مہاجر کبھی نہیں آئے۔البتہ ۱۸۹۲ء میں حضرت اقدس نے