حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 403 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 403

حیات احمد ۴۰۳ جلد سوم پڑھا ) حضرت معراج الدین عمرؓ نے اکثر سامعین کے تاثرات کا اظہار فرمایا ہے۔میں اسے بھی یہاں درج کر دیتا ہوں۔فرماتے ہیں۔۱۸۹۲ء میں میراں بخش کی کوٹھی واقع لاہور میں بہت بڑے مجمع کے سامنے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقریر فرمائی تھی اور بعد میں حضرت خلیفہ اول نے تقریر کی۔حاضری تقریباً دس ہزار تھی کیونکہ لوگ کوٹھی کے صحن اور آس پاس کے مکان کی چھتوں پر اور کوچوں میں اس طرح باہم پیوستگی کی حالت میں کھڑے تھے کہ ہل چل بھی نہیں کر سکتے تھے تقریر کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب تھک گئے تو اندر کمرے میں تشریف لے گئے۔ہم نے دبانا شروع کیا۔حضور علیہ السلام کے معاً بعد حضرت خلیفہ اول میز کے اوپر کھڑے ہو گئے پہلے کلمہ شہادت بلند آواز اور بڑے موثر جذبہ کے ساتھ پڑھا اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گرد ونواح کی اینٹوں میں سے بھی کلمہ کی آواز گونج رہی ہے۔آپ کے لیکچر کا حاضرین پر اثر تھا کہ رونے چینے اور چلانے کی چاروں طرف سے آوازیں آ رہی تھیں۔تقریر کے بعد چند معززین آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مبارک باد دے کر کہا کہ اگر آپ ایک دفعہ اور کلمہ اس طرح پڑھتے تو ہم پورے مسلمان ہو جاتے لیکن آدھے مسلمان تو ہو گئے ہیں۔(۳) ۱۸۹۲ء کے سالانہ جلسہ کے متعلق حضرت نواب محمد علی خان صاحب رضی اللہ عنہ کا بیان بھی جو مکرم ملک صلاح الدین صاحب فاضل مؤلف اصحاب احمد نے دوسری جلد مشتمل بر حالات حضرت صاحب میں لکھا ہے ) یہاں درج کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔دسمبر۱۸۹۲ء میں قادیان گیا تو مدرسہ احمد یہ مہمان خانہ اور حضرت خلیفہ المسیح اول کے مکان کی بنیادیں رکھی ہوئی تھیں اور یہ ایک چبوترہ سالمبا بنا ہوا تھا۔اسی پر جلسہ ہوا تھا اور کسی وقت گول کمرہ کے سامنے جلسہ ہوتا تھا۔یہ چبوترہ بھرتی ڈھاب میں سے ڈال کر بنایا گیا تھا۔اور اس کے