حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 402
حیات احمد ۴۰۲ جلد سوم محبوب رایوں کے مکان واقع منگے منڈی لاہور کا واقعہ ہے۔(مرتب) کہ ایک سائیں سراج الدین جو پیر گولڑوی کا مرید تھا۔اور لاہور میں گولڑوی کے مرید اس کی عزت کیا کرتے تھے نورالدین نان بائی کے مکان میں رہا کرتا تھا۔ایک روز وہ حضرت اقدس سے ملنے کے بہانہ سے آیا۔اور آ کر سامنے بیٹھ گیا۔جب موقعہ پایا تو اجازت چاہی کہ میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔حضور علیہ السلام نے اجازت دے دی اس پر اُس نے گالیاں نکالنی شروع کر دیں۔اور اس قدر گالیاں دیں کہ گالیوں کی لغات میں کوئی لفظ اُس نے باقی نہ چھوڑا۔جب ذرا ٹھہر جاتا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے کہ سائیں صاحب کچھ اور ! وہ پھر بھڑک اٹھتا۔گالیاں شروع کر دیتا۔حضرت اقدس تھوڑی پر ہاتھ رکھے اُسے دیکھتے رہے۔اور سنتے رہے اس پر ہمیں بھی جوش پیدا ہوا۔ہم نے اسے سرزنش کرنے کی کوشش کی مگر حضور علیہ السلام نے منع فرمایا۔نوٹ۔اس واقعہ کے متعلق ایک روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ جب وہ اپنی بکواس کرتے کرتے خود ہی خاموش ہو گیا ، اُس کے خاموش ہو جانے پر حضرت نے اُسے مخاطب کر کے فرمایا ”بھائی کچھ اور بھی کہہ لے اس پر وہ گڑ گڑا کر حضور کے پاؤں پر گر پڑا اور معافی کا خواستگار ہوا اور کہنے لگا کہ مجھ سے سخت نادانی ہوئی میں حضور کے مرتبہ کو نہیں پہچانتا میری تو بہ“ جہاں تک میرا علم اور چشم دید واقعہ ہے مجھے یہ بیان معلوم نہیں اور جیسا کہ حضرت میاں معراج الدین صاحب کی روایت سے ظاہر ہے کہ وہ گولڑوی کا ایک کٹر مرید تھا۔اس کا پورا پتہ حضرت میاں صاحب نے بیان کر دیا ہے اس کی روایت میں بھی اس کے اس طرز عمل کی تائید نہیں۔ایک غالی دشمن اس قسم کی شرافت کا اظہار کرے کچھ مستبعد معلوم ہوتا ہے۔وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصّواب (r) حضرت حکیم الامت رضی اللہ عنہ نے منشی میراں بخش صاحب مرحوم کی کوٹھی میں جو تقریر کی تھی اس کے ابتدائی حصہ کے متعلق ( جو آپ نے ایک درد میں ڈوبی ہوئی آواز میں کلمہ شہادت