حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 399
حیات احمد ۳۹۹ سراسر نقصان کرتے ہیں۔سب سے بڑھ کر اس عاجز کے قدیمی دوست یا پرانے مقتدا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی لوگوں کو مرزا صاحب سے ہٹانے اور نفرت دلانے میں مصروف ہیں۔جن کو پہلے پہل مرزا صاحب سے بندہ نے بدظن کیا تھا جس کے عوض میں اس دفعہ انہوں نے مجھے بہکایا اور صراط مستقیم سے جُدا کر دیا۔چلو برابر ہو گئے۔مگر مولوی صاحب ہنوز در پئے ہیں۔اب جو جلسہ پر مرزا صاحب نے مجھے طلب کیا تو مولوی صاحب کو بھی ایک مخبر نے خبر کر دی۔انہوں نے اپنے وکیل کی معرفت مجھے ایک خط لکھا جس میں ناصح مشفق نے مرزا صاحب کو اس قدر بُرا بھلا لکھا اور ایسے ناشائستہ الفاظ قلم سے نکالے کہ جن کا اعادہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔مولوی صاحب نے یہ بھی لحاظ نہ کیا کہ علاوہ بزرگ ہونے کے میرزا صاحب میرے کس قدر قریبی رشتہ دار ہیں۔پھر دعویٰ محبت ہے۔افسوس اس جلسہ پر تین سو سے زیادہ شریف اور نیک لوگ جمع تھے جن کے چہروں سے مسلمانی نور ٹپک رہا تھا۔امیر۔غریب۔نواب۔انجینئر۔تھانہ دار۔تحصیلدار۔زمیندار۔سوداگر۔حکیم۔غرض ہر قسم کے لوگ تھے۔ہاں چند مولوی بھی تھے۔مگر مسکین مولوی۔مولوی کے ساتھ مسکین اور منکسر کا لفظ یہ مرزا صاحب کی کرامت ہے کہ مرزا صاحب سے مل کر مولوی بھی مسکین بن جاتے ہیں ورنہ آج کل مسکین مولوی اور بدعات سے بچنے والا صوفی كِبْرِيْتِ أَحْمَر اور کیمیائے سعادت کا حکم رکھتا ہے۔مولوی محمد حسین صاحب اپنے دل میں غور فرما کر دیکھیں کہ وہ کہاں تک مسکینی سے تعلق رکھتے ہیں۔ان میں اگر مسکینی ہوتی تو اس قد رفساد ہی کیوں ہوتا ؟ یہ نوبت بھی کیوں گزرتی اس قدر ان کے متبعین کو اُن سے عداوت اور نفرت کیوں ہوتی ؟ اہل حدیث اکثر اُن سے بیزار کیوں ہو جاتے؟ اگر مولوی صاحب اس میرے بیان کو غلط خیال فرماویں تو میں انہیں پر حوالہ کرتا ہوں۔انصافاً و ایمانا اپنے احباب کی ایک جلد سوم