حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 396 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 396

حیات احمد ۳۹۶ جلد سوم اور عادات دنیہ اور رسوم قبیحہ کو قوم میں سے دور کرنے اور اس میں گورنمنٹ برطانیہ کا سچا شکر گزار اور قدردان بنے کی کوششیں اور تدبیریں کی جائیں۔ان اغراض کے پورا کرنے اور دیگر انتظامات کی غرض سے ایک کمیٹی بھی تجویز کی گئی ہے جس کے صدر پریذیڈنٹ حضرت مولوی نورالدین صاحب بھیروی اور سیکرٹری صاحب اتالیق جناب خان صاحب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ اور شیخ رحمت اللہ صاحب میونسپل کمشنر گجرات منشی غلام قادر صاحب فصیح وائس پریذیڈنٹ میونسپل کمشنر سیالکوٹ اور مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی قرار دیئے گئے۔“ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۱۳ تا ۶۱۶ ) حضرت میر ناصر نواب رضی اللہ عنہ نے بھی اس جلسہ کی کیفیت بطور اشاعتی بیان کے شائع کی۔ان ایام میں وہ سلسلہ کے مخالف تھے مگر اس جلسہ میں شمولیت کے بعد ان کے شکوک رفع ہو گئے۔اور انہوں نے صدق دل سے بیعت کر لی اور اس کا عملی ثبوت ان قربانیوں اور خدمات سے دیا جو انہوں نے مرتے دم تک سلسلہ کی کیں ان کی زندگی اور جذبات کے مختصر حالات میں حیات ناصر میں شائع کر چکا ہوں۔ان کا یہ مفصل بیان آئینہ کمالات اسلام کے ساتھ بطور ضمیمہ شائع ہو چکا ہے بعض حصص یہاں بھی درج کرتا ہوں۔”مرزا صاحب نے مجھے بھی باوجود یکہ ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ میں ان کا مخالف ہوں نہ صرف مخالف بلکہ بد گو بھی اور یہ مکر رسہ کر ر مجھ سے وقوع میں آچکا ہے جلسہ پر بلایا اور چند خطوط جن میں ایک رجسٹری بھی تھا بھیجے۔اگر چہ پیشتر بہ سبب جہالت اور مخالفت کے میرا ارادہ جانے کا نہ تھا لیکن مرزا صاحب کے بار بار کہنے سے میرے دل میں ایک تحریک پیدا ہوئی۔اگر مرزا صاحب اس قدر شفقت سے نہ لکھتے تو میں ہرگز نہ جاتا اور محروم رہتا۔مگر یہ انہیں کا حوصلہ تھا۔آج کل کے مولوی تو اپنے سگے باپ سے بھی اس شفقت اور عزت سے پیش نہیں آتے۔میں ۲۷ / تاریخ کو دو پہر