حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 395
حیات احمد ۳۹۵ پیشگوئی کا پورا ہونا در حقیقت صداقت دعوئی پر ایک نشان ہے کیونکہ یہ پیشگوئی محض اس لئے ظاہر کی گئی ہے کہ جن صاحبوں کو شک ہے کہ حضرت مرزا صاحب منجاب اللہ نہیں ان کے لئے اس دعوئی پر یہ ایک دلیل ہو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن پر قائم ہوئی اور یہ دلیل قطعی ہے کیونکہ جو شخص اپنے دعوی منجاب اللہ ہونے میں کا ذب ہو اُس کی پیشگوئی بموجب تعلیم قرآن کریم اور توریت کے سچی نہیں ٹھہر سکتی وجہ یہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا ذب کے دعوی دروغ پر کوئی پیشگوئی اس کی سچی کر دیوے تو پھر دعوی کا سچا ہونا لازم آتا ہے اور اس سے خلق اللہ دھوکہ میں پڑتی ہے۔پھر اس کے بعد حضرت اقدس مرزا صاحب نے اپنی جماعت کے احباب کی باہمی محبت اور تقویٰ اور طہارت کے بارے میں مناسب وقت چند نصیحتیں کیں۔پھر اس کے بعد ۲۸ / دسمبر ۱۸۹۲ء کو یورپ اور امریکہ کی دینی ہمدردی کے لئے معزز حاضرین نے اپنی اپنی رائے پیش کی اور یہ قرار پایا کہ ایک رسالہ جو اہم ضروریات اسلام کا جامع اور عقائد اسلام کا خوبصورت چہرہ معقولی طور پر دکھاتا ہو تالیف ہو کر اور پھر چھاپ کر یورپ اور امریکہ میں بہت سی کا پیاں اس کی بھیج دی جائیں۔بعد اس کے قادیان میں اپنا مطبع قائم کرنے کے لئے تجاویز پیش ہوئیں اور ایک فہرست اُن صاحبوں کے چندہ کی مرتب کی گئی جو اعانت مطبع کے لئے بھیجتے رہیں گے، یہ بھی قرار پایا کہ ایک اخبار اشاعت اور ہمدردی اسلام کے لئے جاری کیا جائے اور یہ بھی تجویز ہوا کہ حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی اس سلسلہ کے واعظ مقرر ہوں اور وہ پنجاب اور ہندوستان میں دورہ کریں۔بعد اس کے دعائے خیر کی گئی آیندہ بھی ہمیشہ اس سالانہ جلسہ کے یہی مقاصد رہیں گے کہ اشاعت اسلام اور ہمدردی نو مسلمین امریکہ اور یورپ کے لئے احسن تجاویز سوچی جائیں اور دنیا میں نیک چلنی اور نیک نیتی اور تقویٰ طہارت اور اخلاقی حالات کے ترقی دینے اور اخلاق جلد سوم