حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 379 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 379

حیات احمد ۳۷۹ جلد سوم آسمانی فیصلہ پر بٹالوی کی جرح اور اس کا جواب آسمانی فیصلہ کے اعلان پر جیسا کہ لکھا جا چکا ہے بٹالوی نے یا اس کے رفقائے کفر نے مقابل میں آنے کی ہمت تو نہ کی اس پر غیر معقول سوالات کر کے اس موت کے پیالہ کوٹلانا چاہا۔حضرت نے اس نشان آسمانی میں ان کے غیر معقول سوالات کا بھی جواب دیا۔آپ نے فرمایا۔غرض میں نے جب دیکھا کہ یہ لوگ قرآن اور حدیث کو چھوڑتے ہیں اور کلام الہی کے الٹے معنے کرتے ہیں تب میں نے ان سے بکلی نومید ہو کر خدا تعالیٰ سے آسمانی فیصلہ کی درخواست کی اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے میرے دل پر القا کیا وہ صورت فیصلہ کے لئے میں نے پیش کر دی۔اگر ان لوگوں کے دل میں انصاف اور حق طلبی ہوتی تو اس کے قبول کرنے میں توقف نہ کرتے یہ درخواست کس قدر فضول ہے کہ ایک سال کے عرصہ کو جو ایک الہامی امر خود بخود بدلا دیا جائے اور ایک یا دو ہفتہ بجائے اس کے مقرر کئے جائیں یہ لوگ نہیں جانتے کہ یہ میعاد منجانب اللہ ہے اور انسان تو اپنے اختیار سے کبھی جرات ہی نہیں کر سکتا کہ خوارق کے دکھلانے کے لئے کوئی میعاد فیصلہ مقرر کر سکے۔بہر حال چونکہ میری طرف سے آسمانی فیصلہ میں ایمانی مقابلہ کے لئے درخواست ہے تو پھر مقابلہ سے دستکش ہو کر خاص مجھ سے نشانوں کے لئے استدعا کرنا اس صورت میں میاں نذیر حسین اور بٹالوی صاحب کو حق پہنچتا ہے کہ جب حب تحریر میری اوّل اس بات کا اقرار شائع کریں کہ ہم لوگ صرف نام کے مسلمان ہیں اور دراصل ایمانی انوار و علامات ہم میں موجود نہیں کیونکہ یکطرفہ نشانوں کے دکھلانے کے لئے بغرض کبر شکنی ان کی کے میں نے یہی شرط آسمانی فیصلہ میں قرار دی