حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم)

by Other Authors

Page 380 of 431

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد سوم) — Page 380

حیات احمد ۳۸۰ جلد سوم ہے اور نیز ظاہر بھی ہے کہ ان لوگوں کو بجائے خود مومن کامل اور شیخ الکل اور ملہم ہونے کا دعویٰ ہے اور مجھ کو ایمان سے خالی اور بے نصیب سمجھتے ہیں۔تو پھر بجز مقابلہ کے اور کونسی صورت فیصلہ کی ہے ؟ ہاں اگر اپنے ایمانی کمالات کے دعویٰ سے دست بردار ہو جائیں تو پھر یکطرفہ ثبوت ہمارے ذمہ ہے اس بات کا جواب میاں نذیر حسین اور بٹالوی صاحب کے ذمہ ہے کہ وہ باوجود دعوی مومن کامل بلکہ شیخ الکل ہونے کے کیوں ایسے شخص کے مقابلہ سے بھاگتے ہیں بلکہ ان کی نظر میں کا فر بلکہ سب کافروں سے بدتر ہے اور کس بنا پر یکطرفہ نشان مانگتے ہیں۔اگر فیصلہ آسمانی کے جواب میں یہ درخواست ہے تو حسب منشاء اس رسالہ کے درخواست ہونی چاہئے یعنی اگر اپنی ایمانداری کا کچھ دعوی ہے تو مقابلہ کرنا چاہئے جیسا کہ آسمانی فیصلہ میں بھی شرط درج ہے ورنہ صاف اس بات کا اقرار کر کے کہ جو حقیقی ایمان سے خالی ہیں یکطرفہ نشان کی درخواست کریں۔“ اپنی صداقت پر ربانی شہادت نشان آسمانی، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۹۱ و ۳۹۵) آسمانی فیصلہ کے ذریعہ آپ نے علماء مکفرین کو مقابلہ میں بلایا کہ وہ اپنے اور آپ کے مومن ہونے کا قرآن کریم کے معیار پر فیصلہ کریں اور نشان آسمانی کے ذریعہ سلیم الفطرت لوگ اولیاء اللہ اور ملهمین کی شہادت پیش کر کے توجہ دلائی کہ وہ حق کی مخالفت نہ کریں اسی سلسلہ میں آپ نے ایک عام طریق پر فیصلہ پیش کیا جو کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں اور شریف النفس لوگوں کو متوجہ کیا کہ میرے پیش کردہ مسنون طریق پر براہ راست اللہ تعالیٰ سے میری صداقت کو معلوم کریں یہ ایسا طریق تھا اور ہے کہ اس میں کسی منصوبہ اور دلیل اور مباحثہ مقابلہ کی حاجت نہیں اس